کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 454
آخرت کا یہ گھر ہم انہی کے لئے مقرر کردیتے ہیں جو زمین میں اونچائی بڑائی اور فخر نہیں کرتے نہ فساد کی چاہت رکھتے ہیں‘ اور نیک انجام کار متقیوں کے لئے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیک انجام کی دعا کیا کرتے تھے‘ چنانچہ فرماتے تھے: ’’اللھم أحسن عاقبتنا في الأمور کلھا وأجرنا من خزي الدنیا و عذاب الآخرۃ‘‘[1]۔ اے اللہ ! تمام معاملات میں ہمارے انجام کو سنوار دے‘ اور دنیا کی رسوائی اور قبر کے عذاب سے ہماری حفاظت فرما۔ (22)دنیا و آخرت کی فلاح وکامرانی:متقیوں کو دنیا وآخرت میں فلاح و کامرانی نصیب ہوگی: ارشاد باری ہے: ﴿وَمَن يُطِعِ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللّٰهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ(٥٢)[2]۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے اور اللہ سے ڈرے اور اس کا تقویٰ اختیار کرے تو ایسے ہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ (23)مومن کے لئے طغرۂ امتیاز:تقویٰ مومنوں اور بدکاروں کے درمیان فرق وامتیاز کرتا ہے: اللہ عز وجل کا ارشاد ہے: ﴿أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ(٢٨)[3]۔ کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے برابر کردیں گے جو(ہمیشہ)زمین میں فساد مچاتے رہے‘ یا پرہیز گاروں کو بدکاروں جیسا کردیں گے؟ نیز ارشاد ہے:
[1] مسند احمد،4/181 و المعجم الکبیر للطبرانی،2/33،حدیث نمبر:(1196،1197)امام ہیثمی مجمع الزوائد(10/78)میں فرماتے ہیں:’’مسند احمدکے اور معجم طبرانی کی ایک سند کے راویان ثقہ(قابل اعتماد)ہیں۔ [2] سورۃ النور:52۔ [3] سورۃ ص:28۔