کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 444
سے محبت کرتاہے۔ نیز ارشاد ہے: ﴿إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ(٤)[1]۔ بیشک اللہ تعالیٰ متقیوں سے محبت فرماتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’إن اللّٰه یحب العبد التقي الغني الخفي‘‘[2]۔ بیشک اللہ تعالیٰ تقویٰ شعار‘ مالدار(بے نیازی کا اظہار کرنے والا)‘ پوشیدہ(گمنام)بندے سے محبت کرتا ہے۔ امام قرطبی اور امام نووی رحمہما اللہ نے ذکر کیا ہے کہ:مالدار سے مراد ’نفس کی مالداری و بے نیازی‘ ہے،یہی اس کا پسندیدہ مفہوم ہے،کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ’’لیس الغنی عن کثرۃ العرض،ولکن الغنی غنی النفس‘‘[3]۔ مالداری زیادہ ساز وسامان کی نہیں‘ بلکہ مالداری دراصل نفس کی مالداری و بے نیازی ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جو شخص اللہ سے لولگا کر(غیروں سے)بے نیاز ہوجائے اور اللہ کی متعین کردہ نوشتۂ تقدیر پر راضی و خوش ہو۔ اور ’پوشیدہ‘ سے مراد وہ گمنام ہے جو دنیامیں بلندی اور دنیوی عہدوں پر فائز ہونے کا خواہش مند نہ ہو۔ بعض روایات میں:’’إن اللّٰه یحب العبد التقي الغني الحفي‘‘کے الفاظ آئے ہیں‘ یعنی اللہ تعالیٰ تقویٰ شعار‘مالدار اور عالم بندے سے محبت کرتا ہے۔ ’’حفي‘‘ کے معنیٰ عالم کے ہیں‘ جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[1] سورۃ التوبہ:4 و 7۔ [2] صحیح مسلم،کتاب الزھد والرقائق،باب،4/2277،حدیث نمبر:2965،بروایت سعد بن ابی وقاص رضی اللّٰه عنہ۔ [3] متفق علیہ،بروایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰه عنہ:صحیح بخاری،کتاب الرقاق،باب الغنی غنی النفس،7/ 288،حدیث نمبر:(6446)ومسلم،کتاب الزکاۃ،باب لیس الغنی عن کثرۃ العرض،2/726،حدیث نمبر:(1051)۔