کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 396
[3]زمزم نوشی سے تبرک کا حصول:
کیونکہ آب زمزم روئے زمین کا سب سے افضل پانی ہے،اسے پینے سے سیرابی حاصل ہوتی ہے اور وہ کھانے کے قائم مقام ہوتا ہے،اور اسے نیک نیتی کے ساتھ نوش کرنے سے بیماریوں سے شفایابی حاصل ہوتی ہے،کیوں کہ آب زمزم جس مقصدکے لئے نوش کیا جائے اس سے اس مقصد کی تکمیل ہوتی ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آب زمزم کے بارے میں فرمایا:
’’إنھا مبارکۃ،إنھا طعام طعم[وشفاء سقیم]‘‘[1]۔
یہ بڑا بابرکت پانی ہے،یہ بھوکے کی غذا اور مریض کی شفایابی کا ذریعہ ہے۔
اور جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے،فرماتے ہیں:
’’ماء زمزم لما شرب لہ ‘‘[2]۔
آب زمزم جس مقصدکے لئے نوش کیا جائے اس سے اس مقصد کی تکمیل ہوتی ہے۔
نیز بیان کیا جاتا ہے کہ:’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آب زمزم کو برتنوں اور مشکوں میں بھر کر لے جاتے اور اسے مریضوں پر چھڑکتے اور انہیں پلا تے تھے‘‘[3]۔
[4]آب باراں سے برکت کا حصول:
اس میں کوئی شک نہیں کہ بارش ایک بڑی بابرکت شئے ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس میں برکت رکھی ہے،وہ یوں کہ اس بارش سے لوگ مویشی اور چوپائے سیراب ہوتے ہیں،اور اسی طرح اس سے درخت اور میوے پیدا ہوتے ہیں،اور اللہ تعالیٰ اس بارش کے ذریعہ ہر شئے میں زندگی کی روح ڈالتا ہے۔
[1] صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب فضل ابي ذرٍ رضي اللّٰه عنہ،4/1922،حدیث نمبر(2473)،قوسین کے درمیان کا جملہ مسند بزار،سنن بیہقی اور معجم طبرانی میں ہے،امام ہیثمی مجمع الزوائد میں فرماتے ہیں کہ ’’ اس کے سارے رواۃ ثقہ ہیں‘‘،3/286۔
[2] سنن ابن ماجہ،کتاب المناسک،باب الشرب من ماء زمزم،2/1018،حدیث نمبر(3062)،امام العصر علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ابن ماجہ(2/183)اور إرواء الغلیل(4/320)میں اس کی تصحیح فرمائی ہے۔
[3] سنن الترمذی بنحوہ،بروایت حضرت عائشہ رضی اللّٰه عنہا،کتاب الحج،بابٌ،حدثنا ابو کریب،3/286،حدیث نمبر(963)،و البیہقی،5/202،علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ترمذی(1/248)اور سلسلہ الأحادیث الصحیحۃ(2/572)میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔