کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 386
جس کسی نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔ اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ من عمل عملاً لیس علیہ أمرنا فھو رد ‘‘[1]۔ جس نے کوئی ایسا عمل کیا جو ہمارے اسلام میں نہیں تو وہ مردود ہے۔ سلف صالحین نے بھی بدعات سے ڈرایا ہے کیونکہ بدعات دین اسلام میں زیادتی اور شریعت کا ایک ایسا طریقہ ہے جس کی نہ اللہ عز وجل نے اجازت دی ہے اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے،بلکہ یہ اللہ کے دشمن یہود ونصاریٰ کی مشابہت ہے‘ جس طرح انہوں نے اپنے اپنے دین(یہودیت وعیسائیت)میں نئی نئی چیزوں کا اضافہ کر لیا[2]۔ 4- شعبان کی پندرہویں شب میں جشن منانااور خصوصیت کے ساتھ رات میں قیام اور دن میں روزہ رکھنا: امام محمد بن وضاح القرطبی اپنی سند سے بروایت عبد الرحمن بن زید بن اسلم نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا:’’ میں نے اپنے مشائخ و فقہاء میں سے کسی کو نہ پایا کہ وہ شعبان کی پندرہویں شب کی طرف ذرا بھی نظر التفات کرتے ہوں،اور نہ مکحول کی حدیث کی طرف[3]،اور نہ ہی دوسری راتوں پر اس رات کی کوئی
[1] صحیح مسلم،3/344،حدیث(1718)،نیز اس حدیث کی تخریج ص:(243،331)میں گزرچکی ہے۔ [2] دیکھئے:التحذیر من البدع،از شیخ ابن باز،ص:19۔ [3] حدیث مکحول کی تخریج یوں ہے:ابن ابی عاصم،في السنۃ،حدیث نمبر(512)،وابن حبان،12/481،حدیث نمبر(5665)،الطبراني في الکبیر،20/109،حدیث نمبر(215)،وابونعیم في الحلیۃ،5/191،و البیھقي في شعب الإیمان،5/272،حدیث نمبر(6628)،بروایت حضرت معاذ بن جبل رضی اللّٰه عنہ مرفوعاً: ’’یطلع اللّٰه إلی خلقہ في لیلۃ النصف من شعبان فیغفر لجمیع خلقہ إلا لمشرکٍ أومشاحنٍ‘‘۔ پندرہویں شعبان کی شب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف تجلی فرماتا ہے اور اپنی تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے،سوائے مشرک اور باہمی بغض و عداوت رکھنے والے کے۔ محد ث العصر امام البانی رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ‘‘ میں فرماتے ہیں:’’ یہ حدیث صحیح ہے،صحابہ کرام کی ایک جماعت سے مختلف سندوں سے مروی ہے،بعض سے بعض کو تقویت حاصل ہوتی ہے،وہ صحابہ یہ ہیں:معاذ بن جبل،ابوثعلبہ الخشنی،عبداللہ بن عمرو،ابو موسی اشعری،ابو ہریرہ،ابو بکر صدیق،عوف بن مالک اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہم،پھر ان آٹھوں سندوں کی تخریج کی ہے اور ان کے رجال پر چار صفحات پر مشتمل طویل گفتگو فرمائی ہے۔میں کہتا ہوں کہ اگر پندرہویں شعبان کی شب کی فضیلت میں علامہ البانی کے بقول یہ روایت صحیح ہے،تب بھی اس سے اس شب میں خصوصیت کے ساتھ عبادتیں کرنا اور اس کے دن میں روزہ رکھناثابت نہیں ہوتا،سوائے اتنی مشروع عبادت کے جسے مسلمان سال کے دیگر ایام میں انجام دیتا ہے،کیونکہ عبادات توقیفی ہیں(بغیر دلیل کے ثابت نہیں ہو سکتیں)۔