کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 385
ایسی کوئی بات ہو تی تو معروف ومشہور ہوتی،اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرکے ہم تک ضرور پہونچاتے[1]۔ ثالثاً:اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امت کے لئے اپنے دین کی تکمیل فرمادی ہے‘ اور ان پر اپنی نعمت تمام کردی ہے،ارشاد ربانی ہے: ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ[2]۔ آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا اورتم پر اپنا انعام بھرپورکردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پررضامند ہوگیا۔ نیز ارشاد ہے: ﴿أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللّٰهُ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ(٢١)[3]۔ کیا ان کیلئے ایسے شرکاء ہیں جنھوں نے اللہ کے دین میں اللہ کی فرمائی ہوئی چیزوں کے علاوہ احکام دین مقررکر دیئے ہیں،اگر فیصلہ کے دن کا وعدہ نہ ہوتا تو ان میں فیصلہ کر دیا جاتا،یقینا ظالموں کے لئے ہی درد ناک عذاب ہے۔ رابعاً:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعات سے بچنے اور دوررہنے کی تنبیہ کی ہے اور صراحت فرمادی ہے کہ ہر بدعت گمراہی اور بدعتی کے منہ پر دے ماری جانے والی(نا قابل قبول)ہے،چنانچہ صحیح بخاری ومسلم میں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’من أحدث في أمرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد‘‘[4]۔
[1] دیکھئے:زاد المعاد،از امام ابن القیم،1/58،والتحذیر من البدع،از علامہ عبد العزیز بن باز،ص:17۔ [2] سورۃ المائدۃ:3۔ [3] سورۃ الشوری:21۔ [4] صحیح بخاری،3/222،حدیث(2697)وصحیح مسلم،3/344،حدیث(1718)نیزتخریج ص:(243،331)میں گزر چکی ہے۔