کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 371
نیز نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’من عمل عملاً لیس علیہ أمرنا فھو ردٌ ‘‘[1]۔ جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں وہ مردود ہے۔ 2- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،آپ کے خلفائے راشدین اور دیگر صحابۂ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم پیدائش کا جشن نہ منایا،اور نہ ہی اس کی دعوت دی،جب کہ وہ نبی ٔ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت کے سب سے افضل لوگ تھے،خلفائے راشدین کی بابت رسول گرامی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’علیکم بسنتي وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین من بعدي،عضوا علیھا بالنواجذ،وإیاکم و محدثات الأمور،فإن کل محدثۃ بدعۃ،وکل بدعۃ ضلالۃ ‘‘[2]۔ میری سنت کو لازم پکڑو اور میرے بعدمیرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کو،اسے دانتوں سے مضبوط جکڑ لو،اور دین میں نئی نئی باتوں سے بچو،کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہربدعت گمراہی ہے۔ 3- یوم پیدائش کا جشن منانا جادئہ حق سے منحرف گمراہوں کا طورطریقہ ہے،کیونکہ سب سے پہلے عبیدیوں فاطمیوں(شیعوں کا ایک فرقہ)نے چوتھی صدی ہجری میں اس بدعت کو ایجاد کیا،یہ لوگ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف سراسر جھوٹ منسوب ہیں،حقیقت میں یہ لوگ باختلاف اقوال یہودی یا مجوسی(آتش پرست)یا دہریہ بد دین لوگ تھے[3]۔ ان کا سب سے پہلا بادشاہ المعزلدین اللہ عبیدی مغربی تھا،جو شوال 361؁ھ میں مغرب سے مصر کی طرف نکلا،اور رمضان 362؁ھ میں مصر پہنچا[4]۔
[1] اس حدیث کی تخریج ص:(243،331)میں گزر چکی ہے۔ [2] اس حدیث کی تخریج ص:(243،331)میں گزرچکی ہے۔ [3] دیکھئے:الإبداع في مضار الابتداع،از شیخ علی محفوظ،ص:251،والتبرک انواعہ واحکامہ،از ڈاکٹر ناصر بن عبد الرحمن الجدیع،ص:359-373،وتنبیہ اولی الأبصار إلی کمال الدین وما في البدع من اخطار،از ڈاکٹر صالح سحیمی،ص:232۔ [4] دیکھئے:البدایۃ والنھایۃ،از امام حافظ ابن کثیر،11/272-273،345،12/267 - 268،و 6/232،و12/63،و 11/161 و 12/13،و 12/266،نیز دیکھئے:سیر اعلام النبلائ،از امام ذہبی،15/159-215۔ بتایا جاتا ہے کہ عبیدیوں کا سب سے آخری بادشاہ عاضد لدین اللہ تھا،جسے صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے 564؁ھ میں قتل کیا،امام ذہبی فرماتے ہیں:’’عاضد کا معاملہ صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کے ہا تھوں سر انجام پایا،یہاں تک کہ انھوں نے اسے نکال بھگایا اور بنو عباس کو بحال کیا،اور بنو عبید کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکا،اور روافض کی حکومت کوکچل کر رکھ دیا،یہ چودہ لوگ تھے جو من مانی خلیفہ بن بیٹھے تھے۔’’عاضد‘‘ کے معنی ’’کاٹنے والے ‘‘ کے ہوتے ہیں،چنانچہ عاضد خود اپنے اہل خانہ کی حکومت کو کاٹ دینے والا ثابت ہوا،15/212۔