کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 363
2- بدعت عملی:بدعت عملی کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں: ٭ وہ بدعت جو اصلِ عبادت میں ہو،جیسے کوئی ایسی عبادت ایجاد کرے جس کی شریعت میں کوئی اصل ہی نہ ہو،مثلاً کوئی غیر مشروع صلاۃ یا غیر مشروع صیام یا عید میلاد کی طرح کوئی غیر مشروع عید ایجاد کرے،وغیرہ۔ ٭ وہ بدعت جو کسی مشروع عبادت پر اضافہ اور زیادتی کی شکل میں ہو،مثال کے طور پرظہر یا عصر کی صلاۃ میں پانچویں رکعت کا اضافہ کردے،وغیرہ۔ ٭ وہ بدعت جو کسی مشروع عبادت کی ادائیگی کے طریقہ میں ہو،مثلاً کوئی شخص کسی مشروع عبادت کو غیر شرعی طریقہ سے ادا کرے،جیسے مشروع اذکار کو اجتماعی آواز میں گا گا کر پڑھنا،اسی طرح عبادات میں اپنے آپ پر بے جا سختی کرنا کہ سنت کی حد سے خارج ہوجائے۔ ٭ وہ بدعت جو کسی مشروع عبادت کو کسی خاص وقت میں ادا کرنے کی شکل میں ہو،جس کی شریعت میں کوئی تخصیص نہ ہو،مثال کے طور پر شعبان کے پندرہویں دن کو روزہ اور اس کی شب کو قیام(عبادات وغیرہ)کے لئے خاص کرلینا،کہ اصل صیام وقیام تو مشروع ہے لیکن کسی وقت کی تخصیص کے لئے دلیل درکارہے [1]۔ چھٹا مسلک:دین میں بدعت کا حکم: اس میں کوئی شک نہیں کہ دین اسلام میں ایجاد کی جانے والی ہر بدعت گمراہی ہے اور حرام ہے،کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’ إیاکم و محدثات الأمور،فإن کل محدثۃ بدعۃ،وکل بدعۃ ضلالۃ ‘‘[2]۔
[1] دیکھئے:مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام ابن تیمیۃ،18/346،35-414،وکتاب التوحید،از ڈاکٹر صالح الفوزان،ص:81-82،ومجلۃ الدعوۃ،شمارہ نمبر(1139)،9/رمضان،1408؁ھ،مقالہ از ڈاکٹر صالح الفوزان،بدعات کی قسمیں،وتنبیہ اولی الأبصار إلی کمال الدین وما في البدع من اخطار،از ڈاکٹر صالح سحیمی،ص:100۔ [2] سنن أبو داؤد،4/201،حدیث نمبر(4607)،وجامع ترمذی،5/44،حدیث(2676)،مفصل تخریج ص:(338)میں گذر چکی ہے۔