کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 359
وغیرہ بھی ہے۔ یہ ساری چیزیں بدعت ہیں،اور یہی بدعت اضافی ہے،کیونکہ صلاۃ،صوم وغیرہ دیگر عبادات اصلاً مشروع ہیں،لیکن انہیں کسی خاص وقت،خاص جگہ،یا کسی خاص کیفیت میں اداکرنے سے ان میں بدعت داخل ہوجاتی ہے،کیونکہ زمان ومکان اور کیفیات کی یہ تفصیل کتاب وسنت سے ثابت نہیں،چنانچہ یہ ساری چیزیں بہ حیثیت اصل توسنت ہیں لیکن غیر ثابت امور کے سبب بدعت میں داخل ہو جاتی ہیں[1]۔ دوسری قسم:بدعت فعلی وبدعت ترکی: 1- بدعت فعلی:بدعت کی تعریف میں شامل ہے،بدعت فعلی دین میں ایجاد کردہ وہ طریقہ ہے جو بظاہر شریعت کے مشابہ ہو،جس پر چل کر اللہ کی عبادت میں مبالغہ مقصود ہو [2]۔ مثال کے طور پر اللہ کی شریعت میں کسی غیر مشروع امر کا اضافہ کر دینا،جیسے کوئی شخص نمازمیں ایک رکعت کا اضافہ کردے،یا دین میں ایسی چیز لا داخل کرے جو اس میں سے نہ ہو،یا کسی عبادت کو اسوۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کسی خاص کیفیت میں انجام دے،[3] یا کسی مشروع عبادت کو کسی وقت کے ساتھ خاص کردے جسے شریعت نے خاص نہ کیا ہو،جیسے،خصوصیت کے ساتھ پندرہویں شعبان کے دن روزہ رکھے اور رات میں عبادت کرے[4]۔ 2- بدعت تَرکی(کسی چیز کو بلا دلیل ترک کردینے کی بدعت):بدعت کی یہ قسم بھی بدعت کی تعریف کے عموم میں داخل ہے کہ یہ’’دین میں ایک نوایجاد طریقہ ہے‘‘[5]،چنانچہ کسی چیز کو بلادلیل چھوڑنے سے بھی
[1] دیکھئے:اصول في البدع والسنن،از،شیخ عدوی،ص:30،وتنبیہ اولی الأبصار إلی کمال الدین وما في البدع من اخطار،از صالح سحیمی،ص:96۔ [2] دیکھئے:الاعتصام،از امام شاطبی،1/50-56۔ [3] دیکھئے:الاعتصام،از امام شاطبی،1/ 367-445،و تنبیہ اولی الأبصار۔۔،از ڈاکٹر صالح سحیمی،ص:99،وحقیقۃ البدع واحکامھا،ازسعید الغامدی،2/37،واصول في البدع والسنن،از شیخ عدوی،ص:70،وعلم اصول البدع،از علی بن حسن الأثری،ص:107۔ [4] دیکھئے:کتاب التوحید،ازڈاکٹر صالح الفوزان،ص:82۔ [5] دیکھئے:الاعتصام،ازامام شاطبی،1/57۔