کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 354
’’لترکبن سنن من کان قبلکم‘‘[1]۔ تم لوگ ضرور بالضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے راستے کی پیروی کروگے۔ اس حدیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے اس بدترین مطالبہ کا اصل محرک کفار کی مشابہت ہی تھی،اسی طرح صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم کا اللہ کے علاوہ سے تبرک حاصل کرنے کی خاطر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک درخت مقرر فرمانے کے مطالبہ کا سبب بھی کفار کی مشابہت ہی تھی،اور یہی حال آج مسلمانوں کی اکثریت کا بھی ہے کہ انہوں نے بدعات وشرکیات کے عمل میں کفار کی مشابہت اختیار کی ہے،جس کے مظاہر تقریباتِ پیدائش،جنازوں کی بدعات،اور قبروں پر عمارت کی تعمیر وغیرہ کی شکل میں موجود ہیں،اور اس میں کوئی شک نہیں کہ گذشتہ قوموں کی راہیں اپنانا بدعات و خواہشات کا ایک دروازہ ہے‘‘[2]۔ اس بات کی مزید وضاحت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہوتی ہے،چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لتتبعن سنن من کان قبلکم شبراً بشبرٍ،وذراعاً بذراعٍ،حتی لو دخلوا في جحر ضبٍ لاتبعتموھم ‘‘۔ تم لوگ ضرور بالضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے راستوں کی پیروی کروگے،ایک ایک بالشت،اور ایک ایک گز،حتیٰ کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے،تو تم اس میں بھی ان کی اتباع کروگے‘‘۔ہم نے دریافت کیا،اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ’’کیا یہود ونصاریٰ کی راہوں کی؟‘‘ آپ نے فرمایا:’’فمن؟‘‘،’’تو اور کس کی؟‘‘[3]۔
[1] اس حدیث کی تخریج بایں الفاظ امام ابو عاصم نے کتاب السنۃ میں کی ہے،1/37،حدیث نمبر(76)،علامہ البانی نے اس حدیث کی سندکو ’’ظلال الجنۃ في تخریج السنۃ‘‘ میں(جو کتاب السنۃ کے ساتھ ہی شائع ہوئی ہے)حسن قرار دیا ہے،1/37،وجامع ترمذی،کتاب الفتن،باب ماجاء لترکبن سنن من کان قبلکم،4/475،حدیث نمبر(2180)،امام ترمذی ؒ نے حدیث پر حکم لگاتے ہوئے فرمایا ہے کہ ’’حدیث حسن صحیح ہے‘‘،نیز دیکھئے:النھج السدید في تخریج احادیث تیسیر العزیز الحمید،از جاسم بن فہید الدوسری،ص:64،65۔ [2] دیکھئے:تنبیہ اولی الأبصار إلی کمال الدین وما في البدع من اخطار،از ڈاکٹر صالح سحیمی،ص:147،و رسائل ودراسات في الأھواء والافتراق والبدع وموقف السلف منھا،از ڈاکٹر ناصر العقل،2/170،نیز کتاب التوحید،از ڈاکٹر صالح الفوزان،ص:87۔ [3] متفق علیہ:البخاری،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،باب قول النبي صلي الله عليه وسلم:’’لتتبعن سنن من کان قبلکم‘‘،8/191،حدیث نمبر(7320)،ومسلم،کتاب العلم،باب اتباع سنن الیھود والنصاری،4/2054،حدیث نمبر(2669)۔