کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 341
آخری زمانہ میں کچھ دجال اور جھوٹے لوگ پیداہوں گے جو تمہارے پاس ایسی ایسی حدیثیں لائیں گے جنھیں تم نے اور تمہارے آباء واجداد کسی نے نہ سنے ہوں گے،تو خبردار! ان سے بچنا دیکھنا یہ تمہیں گمراہی اور فتنے میں نہ ڈال دیں۔
ثالثاً:بدعات کے سلسلہ میں صحابہ کرم رضی اللہ عنہم کے چنداقوال:
(1)علامہ ابن سعد رحمہ اللہ نے اپنی سند سے ذکرکیا ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’لوگو! میں متبع سنت ہوں،بدعتی نہیں ہوں،لہٰذا اگر درست کروں تو میری مددکرو،اور اگر انحراف کروں تو میری اصلاح کرو‘‘[1]۔
(2)عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ اصحاب الرائے(بدعتیوں)سے بچو،کیونکہ یہ سنتوں کے دشمن ہیں،ان سے حدیثیں نہ یاد ہوسکیں تو انہوں نے اپنی من مانی کہنا شروع کردیا،خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا‘‘[2]۔
(3)عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’(سنت کی)اتباع کرو،بدعت نہ ایجاد کرو،سنت ہی تمہارے لئے کافی ہے،ہربدعت گمراہی ہے‘‘[3]۔
رابعاً:بدعت کے سلسلہ میں تابعین وتبع تابعین رحمہم اللہ کے چند اقوال:
(1)عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے ایک شخص کے پاس ایک خط میں لکھا:’’اما بعد:میں تمہیں اللہ کے تقویٰ،اس کے معاملہ میں اعتدال کی راہ اپنانے،اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کرنے اور آپ
[1] الطبقات الکبری،از ابن سعد،3/136۔
[2] شرح أصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ،از لالکائی،1/139،نمبر(201)،وسنن الدارمی،1/47،اثرنمبر(121)،وجامع بیان العلم وفضلہ،از ابن عبد البر،2/1041،نمبر(2001،2003و 2005)۔
[3] في ماجاء في البدع،از ابن وضاح،ص:43،نمبر(14،12)،والمعجم الکبیر،از،امام طبرانی،9/154،حدیث نمبر(8770)،امام ہیثمی’’مجمع الزوائد‘‘(1/181)میں فرماتے ہیں:’’اس حدیث کے راویان صحیح بخاری کے ہیں‘‘،نیز،شرح أصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ،از لالکائی،1/96،حدیث نمبر(102)،عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی دیگر آثار کے لئے دیکھئے:في ماجاء في البدع،از ابن وضاح،ص:45،ومجمع الزوائد،از امام ہیثمی،1/181۔