کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 340
کے ذریعہ لوگوں کی رہنمائی کر یں گے)میں ’’ھدي‘‘ سے مراد سیرت اور طریقہ ہے،نیز ’’دعاۃ علی أبواب جھنم من أجابھم إلیھا قذفوہ فیھا‘‘(کچھ لوگ جہنم کے دروازہ پر بیٹھے آواز لگارہے ہوں گے،جو ان کی بات مان لے گا وہ اسے جہنم میں ڈھکیل دیں گے)سے مراد اہل علم کے نزدیک وہ امراء ہیں جو بدعت یا کسی اور ضلالت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے تھے جیسا کہ خوارج،قرامطہ اور فتنہ پروروں کا حال تھا[1]۔
(8)زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’أما بعد،ألا أیھا الناس إنما أنا بشر یوشک أن یأتي رسول ربي فأجیب،وأنا تارک فیکم ثقلین:أولھما کتاب اللّٰه،فیہ الھدی والنور،[ھو حبل اللّٰه المتین من أتبعہ کان علی الھدی،ومن ترکہ کان علی الضلالۃ]فخذوا بکتاب اللّٰه،واستمسکوا بہ‘‘[2]۔
اما بعد،لوگوسنو! میں ایک انسان ہوں،ہوسکتا ہے اللہ کا قاصد(ملک الموت)آئے،اور میں اس کی بات پر لبیک کہہ دوں،اور میں تمہارے درمیان دو ٹھوس بنیادیں چھوڑ کر جارہا ہوں،ایک اللہ کی کتاب(قرآن مجید)ہے جس میں ہدایت اور نور ہے،اور وہ اللہ کی ایسی رسی ہے کہ جس نے اسے پکڑا وہ راہ یاب ہے اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ گمراہ ہے،لہٰذا اللہ کی کتاب کو لے لو اور اسے ہی حرز جاں سمجھو۔
اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ کے التزام پر ابھارا ہے اور اس کی ترغیب دی ہے۔
(9)ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’یکون في آخر الــزمان دجــالون کــذابون،یأتونکم من الأحادیث بما لم تسمعوا أنتم ولا آباؤکم،فإیاکم وإیاھم،لا یضلونکم ولا یفتنونکم‘‘[3]۔
[1] صحیح مسلم بشرح نووی،12/479۔
[2] صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب فضائل علي بن ابي طالب رضي اللّٰه عنہ،4/1873،حدیث نمبر(2408)۔
[3] صحیح مسلم،المقدمۃ،باب النھي عن الروایۃ عن الضعفاء والاحتیاط في تحملھا،1/12،حدیث نمبر(6،7)۔وابن وضاح،في ما جاء في البدع،ص:67،نمبر(65)۔