کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 331
’’ إنما الأعمال بالنیات،وإنما لکل امريئٍ مانوی‘‘[1]۔
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے،اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی ہے۔
دوسری شرط:وہ عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق انجام دیا جائے جیسا کہ ارشاد نبوی ہے:
’’من عمل عملاً لیس علیہ أمرنا فھو ردٌ‘‘[2]۔
جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں تو وہ مردود ہے۔
چنانچہ صرف وہی اعمال عند اللہ شرف قبولیت سے سرفراز ہو سکتے ہیں جو خالص اللہ کی رضا جوئی کے لئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق انجام دیئے گئے ہوں،جو عمل اخلاص اور اتباع سنت رسول سے،یا ان دو نوں میں سے کسی ایک سے عاری ہو،ایسا عمل مردود اور ناقابل قبول ہے،نیز اللہ عز وجل کے حسب ذیل فرمان میں داخل ہے:
﴿وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَّنثُورًا(٢٣)﴾[3]۔
انھوں نے جو کچھ بھی اعمال کئے تھے ہم نے ان کی طرف بڑھ کر پراگندہ ذروں کی طرح کردیا۔
اور جس کا عمل اخلاص اور اتباع نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہردو سے بہرہ مند ہو،وہ مندرجہ ذیل بشارتوں کا مستحق ہے،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًا مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلّٰهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ﴾[4]۔
اور بہ حیثیت دین اس شخص سے بہتر کون ہو سکتا ہے جس نے خود کو اللہ کے تابع کردیا ہو اوروہ نیکو کار بھی ہو۔
[1] متفق علیہ:صحیح البخاری،کتاب بدء الوحي،باب کیف کان بدء الوحي إلی رسول اللّٰه صلي الله عليه وسلم،1/9،حدیث نمبر(1)و صحیح مسلم،کتاب الإمارۃ،باب قولہ صلي الله عليه وسلم:’’إنما الأعمال بالنیات‘‘،2/1515،حدیث نمبر(1907)۔
[2] صحیح مسلم،کتاب الأقضیۃ،باب نقض الأحکام الباطلۃ ورد محدثات الأمور،3/1344،حدیث نمبر(1718)،متفق علیہ روایت کے الفاظ اس طرح ہیں:’’من أحدث في أمرنا ھذا ما لیس منہ فھو ردٌ‘‘،دیکھئے:بخاری،حدیث نمبر(2697)،مسلم،حدیث نمبر(1718)۔
[3] سورۃ الفر قان:23۔
[4] سورۃ النساء:125۔