کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 261
پاکیزہ زندگی کی بنیادہیں[1]۔
اور پاکیزہ زندگی‘ پاکیزہ حلال روزی‘ قناعت،نیک بختی،دنیا میں عبادت کی لذت و حلاوت اور انشراح صدر کے ساتھ اطاعت کے کاموں کی بجا آوری کو شامل ہے[2]۔
امام حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’صحیح بات یہ ہے کہ پاکیزہ زندگی ان(مذکورہ)تمام چیزوں کو شامل ہے‘‘[3]۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
’’قد أفلح من أسلم،ورزق کفافاً وقنعہ اللّٰه بما آتاہ‘‘[4]۔
جو شخص اسلام لایا،اسے بقدر کفاف(گزربسرکی)روزی عطاہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اسے عطاکردہ چیزوں پر قانع(قناعت کرنے والا)بنا دیا وہ کامیاب و کامراں ہوگیا۔
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’إن اللّٰه لا یظلم المؤمن حسنۃً،یعطی بھا في الدنیا ویجزی بھا في الآخرۃ،وأما الکافر فیطعم بحسنات ما عمل بھا للّٰه في الدنیا،حتی إذا أفضی إلی الآخرۃ لم یکن لہ حسنۃ یجزی بھا‘‘[5]۔
اللہ تعالیٰ کسی مومن کی ایک نیکی بھی کم نہیں کرتا،اسے دنیا میں بھی اس کا صلہ دیاجاتاہے اور آخرت میں بھی اس کا بدلہ دیا جائے گا،رہا کافر،تو وہ اللہ کے لئے کی ہوئی اپنی نیکیوں کے عوض دنیا میں کھاتا پیتا ہے‘ یہاں تک کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کے پاس کوئی نیکی نہ ہوگی جس کا اسے
[1] التوضیح والبیان لشجرۃ الایمان للسعدی،ص68۔
[2] دیکھئے:تفسیر القرآن العظیم لابن کثیر2/566۔
[3] دیکھئے:حوالہ سابق 2/566۔
[4] صحیح مسلم،کتاب الزکاۃ،باب الکفاف والقناعۃ 2/ 730،حدیث نمبر:(1054)۔
[5] صحیح مسلم،کتاب صفات المنافقین و احکامھم،باب جزاء المؤمن بحسناتہ في الدنیا والآخرۃ وتعجیل حسنات الکافر في الدنیا 4/ 2162،حدیث نمبر:(2808)۔