کتاب: حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا قصہ - صفحہ 71
د: {عَظِیْمٍ}: اس ذبیحہ کو [عظیم] کہنے کے اسباب میں سے تین درج ذیل ہیں: ۱: اس کی شان و عظمت کی بنا پر، کیونکہ اس کے ساتھ ایک رسول کے ایسے بیٹے کا فدیہ دیا گیا، جو بعد میں منصبِ رسالت پر فائز ہونے والے تھے۔ علیہما السلام ۔[1] ۲: اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی قبولیت کی بنا پر۔[2] ۳: اس کی بڑی جسامت کی وجہ سے۔[3] درس ۲۲: حسبِ مشیئت تخلیق پر اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ: اللہ تعالیٰ جو چاہیں، جب چاہیں، جیسے چاہیں تخلیق فرماتے ہیں۔ کسی چیز کے پیدا کرنے میں وہ قطعی طور پر اسباب کے محتاج نہیں۔ اللہ کریم نے خود اپنے متعلق فرمایا۔ {یَخْلُقُ اللّٰہُ مَا یَشَآئُ إِِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ}[4] [اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں، پیدا فرماتے ہیں۔ یقینا اللہ تعالیٰ ہر چیز پر خوب قدرت رکھتے ہیں]۔ کسی چیز کی تخلیق کا ایک مدت میں مکمل کرنا، یا [کُنْ] کہنے سے فوراً وجود میں لانا ان کی اپنی مرضی پر موقوف ہے۔ کسی بھی چیز کی تخلیق کے لیے، ان کی طرف سے تو [کُنْ] کہنا ہی بہت کافی ہے۔ قرآن کریم میں متعدد آیات میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ انہی میں سے چار آیات درج ذیل ہیں: [1] ملاحظہ ہو: تفسیر التحریر والتنویر ۲۳/۱۵۶؛ نیز ملاحظہ ہو: تفسیر القرطبي ۱۵/۱۰۷؛ وتفسیر البیضاوي ۲/۳۰۰؛ وتفسیر أبي السعود ۷/۲۰۱۔ [2] ملاحظہ ہو: التفسیر الکبیر ۲۶/۱۵۸؛ نیز دیکھئے: تفسیر القرطبي ۱۵/۱۰۷؛ وفتح القدیر ۴/۵۸۷۔ [3] ملاحظہ ہو: التفسیر الکبیر ۲۶/۱۵۶؛ نیز دیکھئے: تفسیر البیضاوي ۲/۳۰۰؛ وتفسیر أبي السعود ۷/۲۰۱؛ وفتح القدیر ۴/۵۷۸۔ [4] سورۃ النور / جزء من الآیۃ ۴۵۔