کتاب: حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا قصہ - صفحہ 38
{وَ وَہَبْنَا لَہٗ مِنْ رَّحْمَتِنَآ أَخَاہُ ہٰرُوْنَ نَبِیًّا}[1] [اور ہم نے اسے اپنی رحمت سے اس کا بھائی ہارون نبی بنا کر عطا کیا]۔ [2] ب: حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے وطن اور اعزہ و اقارب سے ہجرت کرتے ہوئے تنہائی کا قدرے زیادہ احساس ہوا، تو اللہ تعالیٰ سے یہ فریاد کی۔[3] ج: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے طلب کردہ بیٹے کے [صالحین]سے ہونے کی دعا کی۔ [الصلاح] بندوں کی صفات میں سے اعلیٰ ترین صفت ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لیے بھی اسی کا سوال کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس سوال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: {رَبِّ ہَبْ لِی حُکْمًا وَّأَ لْحِقْنِیْ بِالصَّالِحِیْنَ}[4] [اے میرے رب! مجھے علم و فہم عطا فرمائیے اور مجھے صالحین میں شامل فرمادیجئے]۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے دین و دنیا کے اعتبار سے بلند مقام دئیے جانے کے بعد اپنے جد امجد خلیل الرحمن علیہ السلام والی فرمائش کی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْکِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْأَحَادِیْثِ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ أَ نْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ أَ لْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ}[5]
[1] سورۃ مریم / جزء من الآیۃ ۵۳۔ [2] ملاحظہ ہو: تفسیر أبي السعود ۷/۱۹۹۔ [3] ملاحظہ ہو: تفسیر التحریر والتنویر ۲۳/۱۴۸۔ [4] سورۃ الشعراء / الآیۃ ۸۳۔ [5] سورۃ یوسف ۔ علیہ السلام ۔ / الآیۃ ۱۰۱۔