کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 95
اُس کی حدوں سے نکل جائے گا اُس کو اللہ دوزخ میں ڈالے گا جہاں وہ ہمیشہ رہے گا اور اُس کو ذلت کا عذاب ہو گا۔‘‘ سورۃ النساء ہی کی ایک اور آیت میں ارشادِ الٰہی ہے : { یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا} [النساء: ۵۹] ’’مومنو! اللہ اور اُس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب ِ حکومت ہیں اُن کی بھی، اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اُس میں اللہ اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو، یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کاانجام بھی اچھا ہے۔‘‘ جبکہ اس سورۃ النساء ہی میں اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اطاعتِ الٰہی قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: { مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَ مَنْ تَوَلّٰی فَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا} [النساء: ۸۰] ’’جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بیشک اُس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے تو اے پیغمبر! آپ کو ہم نے اُن کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔‘‘ آگے چل کر سورۃ الانفال کی (آیت: ۲۰) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: { یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْہُ وَ