کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 87
اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا: ’’میں اللہ تعالیٰ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبت کرتا ہوں، میرے اعمال اگرچہ ان جیسے نہیں لیکن مجھے امید ہے کہ [اس محبت کی وجہ سے] میں ان ہی کے ساتھ ہوں گا۔‘‘ تعظیم و توقیرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ثمرات: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کی تعظیم تو بہت بڑی بات ہے آپ کے تو لکھے ہوئے مکتوبِ گرامی کی تعظیم کرنے والوں نے گستاخانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے برعکس اپنے اس عملِ تعظیم و توقیر کی وجہ سے بہت برکتیں پائیں۔ چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ امام سہیلی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مکتوبِ گرامی شاہِ روم ہرقل کو لکھا تھا اس نے اگرچہ اسلام قبول نہ کیا لیکن اس مکتوبِ گرامی کی بڑی تعظیم و توقیر کی اور اسے سونے کے بنے صندوق میں ریشم کے کپڑے میں سنبھال کر رکھا۔ وہ مکتوبِ گرامی ہرقل کے خاندان میں ایک قیمتی وراثت کے طور پر نسل در نسل منتقل ہوتا آیا یہاں تک کہ طلیطلہ پر غلبہ پانے والے فرنگی حاکم تک پہنچا اور پھر اس کی اولاد کے پاس رہا۔ حافظ ابن حجر ہی نے سیف الدین فلیح المنصوری کے حوالے سے لکھا ہے کہ فرنگی بادشاہ نے انھیں سونے کا وہ صندوق دکھایا، پھر اسے کھولا اور اس سے ایک سونے کا قلمدان نکالا جس میں وہ مکتوبِ گرامی رکھا تھا جس کے اکثر حروف مٹ چکے تھے اور ریشم کے کپڑے کا ٹکڑا اس مکتوبِ گرامی پر جڑ چکا تھا۔ وہ مکتوبِ گرامی ہمیں دکھلاتے ہوئے اس فرنگی حاکم نے کہا: ’’یہ تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوبِ گرامی ہے جو انھوں نے میرے دادا