کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 66
و مال پر خود انسانوں ہی کے ظلم و جبر کو دیکھ کر ایک کافر مصنف نے کہا: ’’موجودہ انسانی مصائب سے نجات پانے کی واحد صورت یہی ہے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )اس دنیا کے حکمران بنیں۔‘‘[1] ۹۔ ’’ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی ذات اور قوم کے لیے نہیں بلکہ دنیائے ارض کے لیے ابرِ رحمت تھے۔ تاریخ میں کسی ایسے شخص کی مثال موجود نہیں ہے جس نے احکامِ الٰہی کو اس عمدہ طریقے سے سر انجام دیا ہو۔‘‘[2] ۱۰۔ پروفیسر آرنلڈ نے اپنی معروف کتاب ’’پریچنگ آف اسلام‘‘ کے صفحہ (۳۷۹) پر لکھا : ’’مدارس میں اگر قرآن کی تعلیم دی جائے تو کچھ کم ترقی کا ذریعہ نہیں ہوسکتا۔‘‘ ۱۱۔ جان ولیم ڈریپر نے لکھا: ’’بنی نوعِ انسان پر جس شخص کی زندگی سب سے زیادہ اثر انداز ہوئی وہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ذاتِ گرامی ہے۔‘‘ ۱۲۔ اخبارِ اندلس کے مصنّف مسٹر اسکاٹ کا کہنا ہے : ’’اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسولِ برحق نہیں تھے تو پھر کوئی رسول دنیا میں آیا ہی نہیں۔‘‘ ۱۳۔ نامور مغربی فلاسفر و دانشور روسو (ROUSSOU)نے یہ تمنّا کی: ’’کاش! میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) انسانیت کو بلندیوں پر پہنچانے کے لیے عرب کے لق ودق صحرا میں عظیم انقلاب [1] شانِ محمد صلی اللّٰه علیہ وسلم از میاں عابد حسین (ص:9) بحوالہ محبتِ رسول صلی اللّٰه علیہ وسلم مولانا مقصود الحسن فیضی (ص:9) [2] مصدر سابق۔