کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 55
نہیں آیا کرے گا جب تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اجازت نہ فرمادیں۔قریشِ مکہ پر ان کے اس اقدام سے جان کے لالے پڑنے لگے تو انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھ بھیجا جس میں رِحم و قرابت کا واسطہ دے کر ثمامہ رضی اللہ عنہ سے سفارش کی درخواست کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعی سفارش کردی، پھر انھیں گندم کی سپلائی شروع ہوئی۔[1] جبکہ انسان تو انسان ہے بوڑھا ہو یا بچہ، عابد و راہب ہویا کافر و بے خدا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو حلال و حرام جانوروں، پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں کے لیے بھی انتہائی رحم دل اور مہربان تھے جیسا کہ اس سلسلہ میں ایک درجن سے زیادہ احادیث و واقعات اور آثار ذکر کیے جاچکے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ و تابعین کے متعدد واقعات ان پر مستزاد ہیں۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان مشفقانہ تعلیمات ہی کا اثر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء و صحابہ رضی اللہ عنہم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمّال و گورنرز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی افواج کے جرنیل رضی اللہ عنہم بھی اسی طرح کے خیالات و کردار کے مالک ہوگئے تھے اور انسان تو انسان وہ کفار کے پھل دار درختوں کو کاٹنے، جلانے، فصلوں کو تباہ اور آبادیوں کو ویران کرنے اور بلا ضرورت اونٹوں بکریوں کو کاٹ پھینکنے سے بھی اپنی افواج کو حکماً منع کیا کرتے تھے۔ چنانچہ مؤطا امام مالک میں مرسل سند سے مروی ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک امیرِ عساکر یا جرنیل کوشام کی طرف روانہ کرتے ہوئے یہ تاکید فرمائی: ’’ اِنِّیْ مُوْصِیْکَ بِعَشْرٍ: لَا تَقْتُلْ اِمْرَأَۃً وَ لَا صَبِیّاً وَ لَا کَبِیْراً ہَرِماً وَ لَا تَقْطَعْ شَجَراً مُثْمِراً وَ لَا تُخَرِّبْ عَامِراً وَ لَا تَعْقِرَنَّ شَاۃً وَ لاَ بَعِیْراً اِلَّا لِمَأْکَلِہٖ وَ لَا تَعْقِرَنَّ نَخْلاً وَ لَا تُحْرِقْہُ وَ لَا [1] صحیح البخاري (3؍165) صحیح مسلم، رقم الحدیث (5؍ 158) أبو داود (2679) مسند أحمد (2؍446) سنن البیہقي (9؍65) إرواء الغلیل (5؍41)