کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 347
اچھے کر دکھائے ہیں پھر ان کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ اُن کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے۔‘‘ اب جو دین اپنا یہ مزاج پیش کرتا ہے اور اپنے پیروکاروں کی اس انداز سے تربیت کرتا ہے کہ دوسروں کے باطل معبودان کو بھی گالی نہ دو تو وہ اس بات کو کیسے پسند کرے گا کہ کوئی شخص نبیٔ برحق حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑائے، استہزاء کرے، سبّ و شتم کا رویہ اپنائے یا گستاخی اور توہین و تنقیصِ رسالت کا ارتکاب کرے؟ اگر کوئی مسلمان اس فعل کا ارتکاب کرے تو وہ کافر و مرتد اور زندیق ہو جائے گا اور اگر کوئی کافر ایسا کرتا ہے تو وہ بھی اس جرمِ توہین و تنقیص کا مرتکب قرار پائے گا اور اسلامی حکومت پر واجب ہے کہ ایسے شخص کو سزائے موت دے۔ چنانچہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ’’ اِنَّ مَنْ سَبَّ النَّبِيَّ ﷺ مِنْ مُسْلِمٍ أَوْ کَافِرٍ فَاِنَّہٗ یَجِبُ قَتْلُہٗ، ہَـٰذا مَذْہَبٌ عَلَیْہِ عَامَّۃُ أَہْلِ الْعِلْمِ۔‘‘[1] ’’جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی وہ مسلمان ہو یا کافر اس کا قتل واجب ہے اور اکثر و بیشتر علما کا یہی مسلک ہے۔‘‘ اس کا غیر مسلم ذمّی ہونا اس کی جان بخشی نہیں کروا سکتا کیونکہ اپنے اس کرتوت سے وہ تحفظ کی ضمانت کھوہ بیٹھا ہے جیسا کہ سنن نسائی کے حاشیہ پر امام سندھی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ’’ اِنَّ الَّذِيْ اِذَا لَمْ یَکُفَّ لِسَانَہٗ عَنِ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ فَلَا ذِمَّۃَ لَہٗ فَیَحِلُّ قَتْلُہٗ۔‘‘[2] [1] الصارم المسلول (ص: 3 المسئلۃ الأولیٰ) [2] حاشیۃ السندي علی سنن النسائي [109/4]