کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 332
گستاخیاں کی تھیں اور لوگوں میں یہ مشہور کرنے کی کوشش کی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف اتنا ہی جانتے تھے جتنا میں لکھ دیتا، اور یہ توہینِ رسالت ارتداد سے بھی بڑا جرم و گناہ ہے۔ اور جس گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر لوگ حدِ شرعی قائم نہ کرسکیں اس سے اپنے رسول کی اہانت، طعن و تشنیع اور سب و شتم کا انتقام خود اللہ تعالیٰ لے لیتا ہے اور اپنے دین کو غالب کرکے دکھلا دیتا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس واقعہ کو ذکر کرکے اپنے زمانے کے بعض واقعات کا تذکرہ کیا اور لکھا ہے: ’’ہمیں اہلِ علم و فقہ اور اہلِ تجربہ نے اپنے مجرب و آپ بیتے واقعات بتائے ہیں کہ ہم نے شام کے ساحلی شہروں اور قلعوں کا محاصرہ کیا اور اندر رومی قلعہ بند تھے۔ کبھی کبھی ہم کسی شہر یا قلعہ کا مہینہ بھر یا اس سے بھی زیادہ عرصہ محاصرہ کیے رکھتے مگر کامیابی نہ ہوتی حتیٰ کہ ہم مایوس ہونے لگتے۔ اسی اثنا میں قلعہ میں محصور لوگوں کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی خبر ملتی کہ وہ ناموسِ رسالت کے درپے ہوئے ہیں تو ہمیں اس کے بعد دو ایک دن میں جلد ہی اور آسانی سے فتح حاصل ہوجاتی بلکہ ہم جب محصور لوگوں کی طرف سے شانِ رسالت میں گستاخیوں کی خبر سنتے تو اسے فتح کے لیے پیشگی خوشخبری شمار کرتے تھے، اگرچہ اس سے ہمارے دل ان کے خلاف غیظ و غضب سے بھی بھر جاتے تھے۔ اسی طرح ہمارے بعض ثقہ احباب نے ہمیں بتایا ہے کہ اہلِ مغرب مسلمانوں کے ساتھ بھی نصاریٰ کے مقابلے میں ایسی ہی صورتِ حال رونما ہوتی ہے اور یہ قانونِ قدرت ہے کہ وہ کبھی تو اپنے دشمنوں کو خود ہی