کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 33
((اِتَّقُوا اللّٰہَ فِیْ ھَذِہِ الْبَھَائِمِ)) [1] ’’ان جانوروں کے معاملہ میں خوفِ الٰہی سے کام لیا کرو۔‘‘ سبحان اللہ! یہ تھی شانِ رحمۃٌ للّعالمین۔ کہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شان اور کہاں ان کینہ ور اور بغض پرور لوگوں کے الزامات ؟! چڑیا (پرندوں ) کے لیے رحمت: الادب المفرد امام بخاری، سنن ابی داود اورمستدرک حاکم میں ہے کہ ایک سفر کے دوران کسی صحابی نے چڑیا کے گھونسلے سے اس کے دو بچے اٹھالیے، چڑیا نے صحابہ کرام سروں پر آکر پھڑپھڑانا شروع کردیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوجب واقعہ کی خبر ہوئی توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ((مَنْ فَجَعَ ھَذِہٖ بِوَلَدِھَا؟ رُدُّوْا وَلَدَھَا اِلَیْھَا)) [2] ’’اس کے بچے اٹھاکر اسے کس نے تکلیف پہنچائی ہے؟ اس کے بچے فوراً اسے واپس لوٹا دو۔‘‘ چیونٹیوں کے لیے رحمت: 6۔ سنن ابو داود میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چیونٹیوں کاایک گھروندا جلاہوا دیکھا تو ارشاد فرمایا : ((اِنَّہٗ لَا یَنْبَغِيْ اَنْ یُّعَذِّبَ بِالنَّارِ اِلَّا رَبُّ النَّارِ)) [3] [1] مسند أحمد (4؍181) ابن حبان (844) [2] الأدب المفرد (384) أبو داود (2675، 5268) مستدرک (4؍239) ریاض الصالحین (1610) [3] الأدب المفرد (384) أبو داود (2675، 5268) مستدرک (4؍239) ریاض الصالحین (1610)