کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 329
انکار ظاہر فرمایا۔ اور پھر تیسری مرتبہ کے بعد اس سے بیعت لے لی۔ اور اس کے چلے جانے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ((أَمَا کَانَ فِیْکُمْ رَجُلٌ رَشِیْدٌ یَقُوْمُ اِلٰی ہَٰذَا حَیْثُ رَآنِيْ کَفَفْتُ یَدِيْ عَنْ بَیْعَتِہٖ فَیَقْتُلُہٗ؟)) ’’تم میں سے کوئی بھی اتنا صاحبِ عقل و دانش نہ ہوا کہ جب وہ دیکھتا کہ میں نے اس شخص سے بیعت لینے سے اپنے ہاتھ کو روک لیا ہے تو وہ اٹھتا اور اسے قتل کردیتا؟‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بعض نے عرض کیا: ’’ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نہیں جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے ہمیں اشارہ کردیا ہوتا۔‘‘ یہ بات کہنے والا کون تھا؟ اس سلسلہ میں تین نام ملتے ہیں : 1حضرت عبّاد بن بشر۔ 2حضرت ابو الیسر۔ 3 حضرت عمرِ فاروق۔[1] اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّہٗ لَا یَنْبَغِيْ لِنَبِيٍّ أَنْ تَکُوْنَ لَہٗ خَائِنَۃُ الْأَعْیُنِ)) [2] ’’کسی نبی کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ چور نگاہوں سے دیکھے۔‘‘ جبکہ ابو داود اور مسند احمد میں ہے: ((اِنَّہٗ لَیْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ یُوْمِضَ )) [3] ’’کسی نبی کے لیے روا نہیں کہ وہ مخفی اشارے کرے۔‘‘ [1] الصارم المسلول (ص: 115) [2] سنن أبي داود و صحیح الجامع (2412،2426) الصحیحۃ (1723) و قال ابن تیمیۃ: بإسنادٍ صحیح، الصارم المسلول (ص: 109) [3] صحیح الجامع (2412) الصحیحۃ (1723)