کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 323
عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اور جولوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام (کی تہمت) سے جو انھوں نے نہ کیا ہو اِیذا دیں تو انھوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اطاعت سے اور اذیتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اذیت سے ملاکر بیان فرمایا ہے اور جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دے اس نے گویا اللہ تعالیٰ کو اذیت دی اور جس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی وہ کافر حلال الدم ہے۔ دوسرے یہ کہ ناموسِ رسالت پر حرف گیری کرنے والے کے لیے دنیا و آخرت کی لعنت اور ذلّت ناک عذاب کی وعید سنائی گئی ہے جو ایسے شخص کے کفر کی واضح دلیل ہے کیونکہ ذلت ناک عذاب قرآنِ کریم میں صرف کفار کے لیے ہی آیا ہے۔[1] یہی سزا ان لوگوں کے لیے بھی ذکر کی گئی ہے جو واقعۂ افک کے بعد بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خصوصاً ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائیں کیونکہ یہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے طعن و عیب اور اذیت کا باعث ہے۔ چنانچہ سورۃ النور میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: { اِِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ} [النور: ۲۳] ’’جو لوگ پرہیزگار اور بُرے کاموں سے بے خبر اور ایمان دار عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا و آخرت (دونوں ) میں لعنت ہے اور ان کو سخت عذاب ہو گا۔‘‘ [1] دیکھیے: الصارم المسلول (ص: 49)