کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 322
سے ہنسی کرتے تھے؟ بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو، اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کر دیں تو دوسری جماعت کو سزا بھی دیں گے کیونکہ وہ گناہ کرتے رہے ہیں۔‘‘ یہ اس بات پر صریح نص ہے کہ اللہ تعالیٰ، اس کی آیات اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا استہزاء و مذاق اڑانا کفر ہے اور سبّ و شتم تو مذاق اڑانے سے بھی بدترین فعل ہے، لہٰذا سنجیدگی سے ہو یا ازراہِ مزاح، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور ناموسِ رسالت پر انگلی اٹھانے والا کافر ہوجاتا ہے۔ غرض یہ آیت نازل تو بعض خاص لوگوں کے بارے میں ہوئی ہے لیکن اس کا حکم عام ہے کہ جو بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن اور شانِ رسالت میں گستاخی کرے گا وہی اس آیت کا مصداق ٹھہرے گا، جیسا کہ اہلِ علم نے کہاہے۔[1] ۴۔ سبّ و شتم اور استہزاء و مذاق یا کسی بھی انداز سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والوں، مقامِ نبوت پر انگلی اٹھانے والوں اور توہینِ رسالت کا ارتکاب کرنے والوں کے کفر کی چوتھی دلیل سورۃ الاحزاب کی آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : { اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَھُمْ عَذَابًا مُّھِیْنًا . وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اکْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُھْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا} [الأحزاب: ۵۷، ۵۸] ’’جو لوگ اللہ اور اُس کے پیغمبر کو رنج پہنچاتے ہیں اُن پر اللہ دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لیے اُس نے ذلیل کرنے والا [1] الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول لشیخ الاسلام ابن تیمیۃ (ص: 33۔ 34)