کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 309
میں ہنگامہ ہوگیا۔ برطانوی یہودیوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور جرمنی کے اخبار نے اس کارٹون کو چھاپنے سے انکار کردیا۔[1] ۵۔ فرانس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایک فلم میں رکیک جنسی حوالوں کی وجہ سے ہنگامے ہوئے۔ ایک سینما کو آگ لگا دی گئی اور ایک شخص جل کر مرگیا۔ ۶۔ آج یورپی ممالک میں بلند آواز سے میوزک سننا منع ہے کہ اس سے پڑوسیوں کی سمع خراشی ہوتی ہے، سڑک پر ہارن بجانا خلافِ قانون ہے اور گاڑی میں زور سے گانا نہیں سنا جاسکتا مگر دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمانوں کے جذبات پر نشتر چلانے کی آزادی ہے۔ آزادیٔ اظہارِ رائے، آزادیٔ صحافت، آزادیٔ فکر و غیرہ کی آڑ میں مغرب اور امریکہ کی دوغلی پالیسیاں اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہیں۔ اور پھر آزادی کا مطلب مادرپدر آزادی بھی نہیں۔ آزادی تو صرف اسی وقت ممکن ہوسکتی ہے جب اس کی حدود کا واضح تعین ہو۔ اور ایک کی آزادی دوسروں کے لیے دست درازی اور غلامی کا طوق نہ بن جائے۔ جرمن مفکر ایمانویل کانٹ (IMMANUL KANT) نے بڑے پتے کی بات کہی ہے جو اب زبان زدِ خاص و عام ہو چکی ہے۔ آزادی کے مفہوم کو واضح کرتے ہوئے اس نے کہا تھا: “ I AM FREE TO MOVE MY HAND BUT THE FREEDOM OF MY HAND ENDS WHERE YOUR NOSE BEGINS” [1] تفصیل کے لیے دیکھیے: ماہنامہ الدعوۃ لاہور’’ حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ نمبر جلد: 17، شمارہ: 3 و ماہنامہ ترجمان القرآن لاہور، جلد: 133، شمارہ: 3۔