کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 304
سعودی عرب کے ایک اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایلیٹ بیک اپنے کمرے میں سویا ہوا تھا کہ اچانک آگ بھڑک اٹھی، اس آگ کے عذاب میں ایلیٹ بھسم ہوکر جہنم واصل ہوگیا۔ یہ وہی بدبخت ایڈیٹر ہے جس نے ۳۰؍ ستمبر ۲۰۰۵ء کو اپنے اخبار میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکے شائع کرکے مسلمانانِ عالم کے دل زخمی کیے تھے۔ {فَاعْتَبِرُوْا یَا أُولِی الَأَلْبَابِ}[1] پس منظر: لاہور سے بھی کم رقبے اور آبادی والے ایک ملک ڈنمارک کے ایک یہودیت نواز اخبار جیلنڈز [یولانو]پوسٹن (Jyllands Posten) نے، جس کی پیشانی پر یہودیوں کا چھ کونوں والا ڈیوڈ سٹار بنا ہوتا ہے، اس نے ۳۰؍ ستمبر ۲۰۰۵ء کو امام الانبیاء و الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں حد درجہ گستاخی و بے ادبی کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے (۱۲) نازیبا و دلآزار کاٹون شائع کیے تھے جن میں ہی سے ایک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عمامہ مقدس میں بم باندھے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ ایسے ہی بعض کارٹونوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلحہ کے ساتھ عورتوں کی جھرمٹ میں کھڑے دکھانے کی گستاخانہ جسارت کی گئی تھی۔ اس ڈینش اخبار کی اس گستاخی اور توہینِ رسالت کا پس منظر یہ ہے کہ اس ملک کی ملکہ مارگریٹ [ii]نے اس واقعہ سے دس ماہ قبل ۱۴؍ اپریل ۲۰۰۵ء میں سرکاری سطح پر اپنی بائیوگرافی [سوانح حیات] شائع کروائی جس میں اس نے اپنی اسلام دشمنی کا کھل کر اظہار کیا تھا اور برلن میں ڈیلی ٹیلیگراف کے نمائندے ہنّا کلیور(Hannah Cleaver)نے ۱۵؍ اپریل کو ہی رپورٹ میں اس ملکہ کا [1] ہفت روزہ الاعتصام لاہور، جلد :58 شمارہ : 24 بابت: 26؍ جمادی الاولیٰ 1427ھ 23جون 2006ء۔