کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 296
اور اسے جان سے مار کرہی دم لیا۔ اس واقعہ کے نتیجے میں چالیس ہزار لوگ مسلمان ہوئے۔[1] ۴۱۔ مرزا غلام احمد قادیانی: گستاخانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی میں سے ایک شخص مسیلمۂ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی بھی ہے جو پنجاب [ہندوستان] کے شہر قادیان کا رہنے والا تھا اور اسی مناسبت سے اسے مرزا قادیانی کہا جاتا ہے۔ اس نے بھی اپنے خبثِ باطن کا اظہار یوں کیا کہ انگریزوں کے سکھلانے اکسانے پر نبی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کردیا۔ علامہ محمد نسیب الرفاعی نے مختصر تفسیر ابن کثیر (سورۃ الاحزاب، آیت: ۴۰) کے حاشیہ پر لکھا ہے: ’’جھوٹے دعویدارانِ نبوت ہی میں سے ایک کذّاب و افّاک، زندیق و کافر اور مشرک شخص وہ ہے جس نے ہندوستان کے ایک گاؤں قادیان میں نبی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا، اس کا نام مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ لَعَنَہٗ اللّٰہُ لَعْنَاتٍ مُتَتَابِعَاتٍ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ ’’وہ نبی ہونے کے زعم میں مبتلا ہوگیا اور یہ باور کروانے لگا کہ اس پر بھی اللہ کی طرف سے وحی اترتی ہے، اسی میں سے یہ بھی ہے: ’’اے احمد! تو میرے لیے بیٹے کی جگہ ہے اور تو میری توحید و تفرید کا مظہر ہے۔‘‘ ’’یہ خبیث کافر ہلاک ہوا تو اس کا بیٹا اس کا خلیفہ بن بیٹھا۔ اس گمراہ جماعت کے لوگ مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں، یہ فرقہ دراصل ہندوستان میں انگریز کا کاشت کردہ پودا ہے اور اسی کی سرپرستی و [1] الدرر الکامنۃ بحوالہ ’’مقترحات و أفکار لنصرۃ المختارﷺ‘‘ علی بن محمد العزبانی۔