کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 281
’’اگر میرے بعد کوئی نبی آنا ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔ ‘‘ قرآنِ کریم اور احادیثِ متواترہ سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوسرا کوئی نبی نہیں آئے گا مگر جھوٹے نبیوں کے دعوؤں کا پتہ دیتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح بخاری و مسلم اور مسند احمدمیں وارد احادیث کی رو سے ارشاد فرمایا: ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یُبْعَثَ دَجَّالُوْنَ کَذَّابُوْنَ قَرِیْبًا مِّنْ ثَلَاثِیْنَ، کُلُّہُمْ یَزْعَمُ أَنَّہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ )) [1] ’’اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک کہ تقریبا تیس جھوٹے دجال رو پذیر نہ ہونگے اور ان میں سے ہر شخص اس زعمِ باطل میں مبتلا ہوگا کہ وہ اللہ کا پیغمبر ہے۔‘‘ جبکہ مسند ابو یعلیٰ میں وارد حسن درجہ کی ایک روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے بعض کا نام بھی لیا جو کہ مسیلمہ، اسود عنسی اور مختار بن ابو عبید ثقفی کوفی ہیں، جن میں سے یمامہ کے اس ناہنجار مسیلمہ نے نبوت کا دعویٰ کردیا اور شعبدہ بازیاں شروع کردیں اور سحر و طلاسم کے مظاہرے کرنے لگا۔ اس کی موت حضرت وحشی حبشی کے ہاتھوں ہوئی۔ چنانچہ وہ بیان کرتے ہیں کہ اسلام لانے سے قبل میرے ہاتھوں امیر الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی اور اسی کے نتیجہ میں مجھے غلامی سے آزادی ملی۔ جب نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کو فتح کیا تو میں طائف بھاگ گیااور جب اہلِ طائف کا ایک وفد مسلمان ہونے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوا تو میں نے شام، یمن یاکسی دوسرے ملک بھاگ جانے کا ارادہ کرلیا۔ اتنے میں مجھے کسی نے کہا:تیرا بھلا ہو، اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے کسی [1] صحیح البخاري مع الفتح الباري (6؍616۔617)