کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 278
[حنفی] بھی تھا جو کہ یمامہ کا باشندہ تھا۔قصرِ نبوت میں اس کے نقب زنی کرنے کا ذکر خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری و مسلم، نسائی، ابن ماجہ اور مسند احمد میں ارشادِ نبوی ہے: ’’ میں سویا ہوا تھا جبکہ مجھے زمین بھر کے خزانے دے دیے گئے اور میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن پہنا دیے گئے۔ یہ بات مجھ پر بڑی گراں گزری جس نے مجھے مغموم کردیا، پھر مجھے وحی کے ذریعے بتایا گیا کہ پھونک ماریں، میں نے پھونک ماری تو وہ دونوں اڑگئے۔ ان دو سنہرے کنگنوں کی میں نے یہ تعبیر کی کہ میرے بعد نبوت کے دو جھوٹے دعویدار ظاہر ہونگے۔ ان میں سے ایک صنعاء یمن والا اسود عنسی اور دوسرا یمامہ والا مسیلمہ ہے۔‘‘[1] اس نے نبی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرکے بے ادبی و توہینِ رسالت کا ارتکاب کیا تھا جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین ہونے کا اعزاز عطا فرمایا ہے۔ چنانچہ سورۃ الاحزاب میں ارشادِ الٰہی ہے: { مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا} [الأحزاب: ۴۰] ’’محمد تمھارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ اللہ کے پیغمبر اور نبیوں (کی نبوت) کی مہر (کے سلسلے کو ختم کر دینے والے) ہیں۔ اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔‘‘ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے خاتم النبیین ہونے کا اعلان فرمایا تھا۔ [1] مختصر صحیح مسلم (1514) صحیح الجامع (2858، 2861) البدایۃ و النہایۃ 5؍49،50۔6؍200)