کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 272
جب یہ افسر مدینہ میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ کل کو پھر حاضر ہوں۔ دوسرے روز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات تمھارے بادشاہ کو میرے اللہ نے ہلاک کرڈالا، جاؤ اور تحقیق کرو۔ افسر یہ خبر سُن کر یمن کو لوٹ گئے۔ وہاں وائسرائے کے پاس سرکاری اطلاع آچکی تھی کہ خسرو کو اس کے بیٹے نے قتل کردیا ہے اور تخت کا مالک ’’شیرویہ‘‘ ہے۔ جو باپ کا قاتل تھا اور یہ واقعہ منگل کی رات ۱۰ جمادیٰ الاولیٰ ۷ھ میں پیش آیا۔[1] قارئین! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نامہ مبارک کے الفاظ ’’أسلم، تسلم‘‘ پر غور کریں۔ اس میں درج تھا کہ اگر مسلمان ہوجائے گا تب سلامت رہے گا۔ یہ تہدید و دھمکی نہ تھی بلکہ اخبار عن الغیب [پیشگوئی] تھا۔ اب باذان نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عادات و اخلاق اور تعلیم و ہدایت کے متعلق کامل تحقیقات کی اور تحقیقات کے بعد مسلمان ہوگیا۔ اس کے دربار اور ملک کا اکثر حصّہ بھی مسلمان ہوگیا۔جو سفیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا اس نے واپس آکر عرض کیا کہ شاہِ ایران نے نامۂ مبارک کو چاک کرڈالا، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ((مَزَّقَ مُلْکَہٗ)) ’’اس نے اپنی قوم کے فرمان سلطنت کو چاک کردیا ہے۔‘‘ قارئین! اس مختصر اور پُر ہیبت جملہ کو دیکھیں اور سواتیرہ سو برس کی تاریخِ عالم میں تلاش کریں کہ کسی جگہ اس قوم کی سلطنت کا نشان بھی ملتا ہے جو اس واقعہ سے پیشتر چار پانچ ہزار برس سے نصف دنیا پر بادشاہی کرتی تھی۔[2] [1] فتح الباري (8؍127،128) [2] رحمۃ للّعالمین (1؍154،155)