کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 259
اورآکر بیٹھ گیا۔ اس مجلس میں قریش کے دوسرے بھی کتنے ہی لوگ تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے گفتگو فرمارہے تھے کہ اس نضر نے درمیان میں ٹانگ اڑانا شروع کردیا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مخاطب ہوکر ایسی مسکت و بادلیل گفتگو فرمائی کہ اس کا منہ بند کردیا اور پھر اس پر اور وہاں موجود دوسرے لوگوں پر سورۃ الانبیاء کی آیات تلاوت فرمائیں، جن میں ارشادِ الٰہی ہے: { اِنَّکُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَھَنَّمَ اَنْتُمْ لَھَا وٰرِدُوْنَ . لَوْ کَانَ ھٰٓؤُلَآئِ اٰلِھَۃً مَّا وَرَدُوْھَا وَ کُلٌّ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ . لَھُمْ فِیْھَا زَفِیْرٌ وَّ ھُمْ فِیْھَا لَا یَسْمَعُوْنَ}[1] [الأنبیاء ۹۸ تا ۱۰۰] ’’(کافرو! اس روز) تم اور جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہو گے (اور) تم (سب) اس میں داخل ہو کر رہو گے۔ اگر یہ لوگ (درحقیقت) معبود ہوتے تو اس میں داخل نہ ہوتے، اور سب اس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے۔ وہاں ان کو چلّانا ہو گا اور اس میں (کچھ) نہ سن سکیں گے۔‘‘ امامِ سیرت ابن اسحاق سے نقل کرتے ہوئے امام ابن ہشام لکھتے ہیں کہ حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : ’’پانچ آدمی جو کہ اپنی اپنی قوم کے کرتا دھرتا اور سربراہ تھے وہ سب سے زیادہ استہزاء اور اہانتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارتکاب کرنے والے تھے، اور وہ یہ تھے: ۱۔ بنی اسد بن عبد العزیٰ کا سردار اسود بن مطلب۔ اس کے خلاف نبی صلی اللہ علیہ وسلم [1] ابن ہشام (1؍2؍8)