کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 256
کر کہا کہ وہاں تم اور تمھارے ساتھی مجھ سے زیادہ اصحابِ حظ و نصیب نہیں ہوں گے اور نہ ہی مجھ پر برتری پائیں گے۔‘‘ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: ’’اسی پر اللہ تعالیٰ نے سورۂ مریم کی آیات نازل فرمائیں، جن میں ارشادِ الٰہی ہے : { اَفَرَئَ یْتَ الَّذِیْ کَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالاً وَّ وَلَدًا . اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَھْدًا . کَلَّا سَنَکْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَہٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا . وَّ نَرِثُہٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا}[1] [مریم: ۷۷ تا ۷۹] ’’بھلا آپ نے اُس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہنے لگا کہ (اگر میں ازسرِ نو زندہ ہوا بھی تو یہی) مال اور اولاد مجھے (وہاں ) ملے گا۔ کیا اس نے غیب کی خبر پالی ہے یا اللہ کے یہاں (سے) عہد لے لیا ہے؟ ہرگز نہیں،جو کچھ کہتا ہے ہم اس کو لکھتے جاتے اور اُس کے لیے آہستہ آہستہ عذاب بڑھاتے جاتے ہیں۔ اور جو چیزیں یہ بتاتا ہے اُن کے ہم وارث ہوں گے اور یہ اکیلا ہمارے سامنے آئے گا۔‘‘ یہی عاص بن وائل سہمی تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی شان میں گستاخیاں کیا کرتا تھا، وہ اپنی ہی کرتوتوں اور اعمالِ شر کی شامت میں اس طرح مبتلا ہوا کہ طائف جانے کے لیے اپنے گدھے پر سوار ہوا اور راستے میں کہیں رکا تو اس کے پاؤں کے تلوے میں شِرق [ایک کانٹے دار حجازی بھاجی یا سبزی]کا کانٹا [1] بخاری و مسلم حوالۂ سابقہ،سیرت ابن ہشام [1؍2؍7]