کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 255
{ اِِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ . فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ . اِِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ}[1] ’’(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !) ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی ہے۔ تم اپنے پروردگار کے لیے نماز پڑھا کریں اور قربانی کیا کریں۔ کچھ شک نہیں کہ آپ کادشمن ہی بے اولاد رہے گا۔‘‘ غرض گستاخانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے تیرہواں آدمی عاص بن وائل سہمی صحابی ٔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن عَمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کا دادا تھا۔ صحیح بخاری و مسلم میں مذکور ہے کہ اس نے حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے تلواریں خریدیں اور وہ اس کے پاس پیسے لینے گئے تو کہنے لگا : ’’اے خباب! جب تک تم کفر نہ کروگے میں تمھیں پیسے نہیں دوں گا۔حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:تم مرکر اٹھوگے تب تک بھی کفر نہیں کروں گا۔ اس نے کہا: کیا مرکر بھی اٹھناہے؟ تو پھر چلیے میں تبھی تمھارا حساب دوں گا۔ اس پر سورۂ مریم کی آیات (۷۷تا ۸۰) نازل ہوئیں۔‘‘[2] سیرت ابنِ اسحاق کی روایت کے مطابق اس نے کہا: ’’کیا تمھارا نبی یہ نہیں کہتا کہ جنت میں اہلِ جنت کو سونا، چاندی، کپڑے، خادم اور جو وہ چاہیں گے انھیں ملے گا؟ انھوں نے فرمایا: ہاں ! صحیح ہے۔ اس پر اس نے کہا کہ مجھے اس دن تک مہلت دو، وہاں [بروزِ قیامت] میں تمھارا حساب بیباق کردوں گا۔ اور قسم کھا [1] ابن إسحاق بحوالہ البدایۃ و النہایۃ (2؍3؍104) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (2091، 4735) صحیح مسلم، صفۃ القیامۃ۔