کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 250
حطمہ میں ڈالا جائے گا۔ اور آپ کیا جانیں کہ حطمہ کیا ہے؟ وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔ جو دلوں پر جا لپٹے گی۔ (اور) وہ اس میں بند کر دیے جائیں گے۔ (آگ کے) لمبے لمبے ستونوں میں۔‘‘ اسی امیہ بن خلف کے ساتھ ہی ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل سہمی اور اسود بن مطلب بن اسد بھی شامل تھے اور یہ اپنی قوم کے سربرآوردہ لوگوں میں سے تھے۔ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طوافِ کعبہ فرمارہے تھے کہ انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنا شروع کیا کہ جن کی ہم عبادت کرتے ہیں تم بھی کر لیا کرو اور جس کی تم عبادت کرتے ہو ہم بھی کرلیا کریں گے، اس طرح طرفین ہی اپنے اور دوسرے کے معبودوں سے کچھ حظ پالیں گے تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الکافرون نازل فرمائی: { قُلْ ٰٓیاََیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ . لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ . وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ . وَلَآ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ . وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ . لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ}[1] ’’(اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم !) کہہ دیں کہ اے کافرو! جن (بتوں ) کو تم پوجتے ہو ان کو میں نہیں پوجتا۔ اور جس (اللہ) کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم عبادت نہیں کرتے۔ اور (میں پھر کہتا ہوں کہ) جن کی تم پرستش کرتے ہو ان کی میں پرستش کرنے والا نہیں ہوں۔ اور نہ تم اس کی بندگی کرنے والے (معلوم ہوتے) ہو جس کی میں بندگی کرتا ہوں۔ تم اپنے دین پر اور میں اپنے دین پر۔‘‘ اس واقعہ میں مذکور ولید بن مغیرہ ہی وہ شخص ہے جسے بعض دیگر سردارانِ [1] ابن ہشام (1؍2؍10)