کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 241
شروع کردیں، جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا مدّعا بیان نہ کر سکے۔ اگلے دن پھر سب کو دعوت دی اور چالیس، پینتالیس آدمی جمع ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں خطاب کرتے ہو ئے فرمایا: ’’میں تمھارے لیے بالخصوص اور عامۃ الناس کے لیے بالعموم رسول بناکر بھیجا گیا ہوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکرِ موت، فکرِ آخرت اور اعمالِ خیر وشر کے انجام اور جنت ودوزخ کا ذکر کیا اور پوچھا کہ اس دعوت میں تم میں سے میراساتھ کون دے گا؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ جوابھی نو عمر ہی تھے وہ کھڑ ے ہوئے اور کہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دوں گا۔‘‘ بعثتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام کے وقت ان کی عمر کل نویادس سال تھی اور ان میں تین سال جمع کر یں تو اس وقت ان کی عمر کل بارہ یاتیرہ سال بنتی ہے۔‘‘[1] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب نے بھی کہا کہ یوں تو آپ [محمد صلی اللہ علیہ وسلم ] کا سارا خاندان یہاں جمع ہے اور میں بھی اس میں سے ایک ہوں۔ البتہ میں اپنی طرف سے حلفیہ یقین دلاتا ہوں کہ میں تاحینِ حیات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیتا رہوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کہنا چاہیں، کہیں۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کا راستہ روکوں گا۔ لیکن اتنی بات ضرورہے: ((اِنَّ نَفْسِيْ لَا تُطَاوِعُنِيْ عْلٰی فِرَاقِ دِیْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ)) [2] ’’میرادل یہ نہیں چاہتا کہ میں اپنے باپ عبدالمطلب کا دین چھوڑ دوں۔‘‘ [1] تفصیل کے لیے دیکھیے: البدایۃ والنہایۃ (3؍ 24 تا 26) [2] الکامل لابن الأثیر کما نقلہ محمد الغزالي في فقہ السیرۃ (ص: 102۔103) رحمۃ لّلعالمین (1؍ 52)