کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 207
میرے ہاتھ اونٹ کا کوئی سوکھا ہوا چمڑہ لگ گیا۔ میں نے اسے دھویا، آگ پر بھونا اور پانی میں بھگوکر تین دن تک کھایا۔[1] یہ (شعبِ ابی طالب کا ) سارا عرصہ بڑی مشکل کا وقت تھا، مگر بنی ہاشم کے پائے استقلال میں لرزش نہ آئی۔ اشارۂ الٰہی سے اس معاہدے کو دیمک چاٹ گئی۔ صرف اللہ تعالیٰ کا نام باقی رہ گیا۔ ادھر قریش نے خود ہی اس معاہدے کو ختم کر دیا۔ اس طرح نبوت کے دسویں سال ماہِ محرم میں ہی یہ قبیلہ شعبِ ابی طالب سے نکل آیا۔[2] معاشی پابندیاں : آج بھی کفار مسلمانوں سے اپنے مطالبات منوانے کے لیے جب چاہتے ہیں ان پر معاشی پابندیاں عائد کردیتے ہیں۔ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے والے کفار کا معاشی مقاطعہ نہ کیا جائے؟ ۶ ہجری میں حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ ایمان لائے، حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ قبیلہ بنو حنیفہ کے سردار اور یمامہ کے حکمران تھے، ان کا علاقہ گندم کی پیداوار کے لیے بڑا زرخیز تھا جہاں سے اہلِ مکہ گندم حاصل کرتے تھے۔ حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ ایمان لانے کے فوراً بعد عمرہ کے لیے مکہ مکرمہ روانہ ہوگئے، بلند آوازمیں تلبیہ کہتے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے تو مشرکینِ مکہ میں کہرام مچ گیا، تلواریں میانوں سے باہر نکل آئیں لیکن کچھ لوگوں نے حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ کو پہچان لیا اور خود ہی [1] الروض الأنف (3؍ 354) [2] صحیح البخاري، باب نزول النبي محمد ﷺ بمکہ (1؍ 216 ) باب تقاسم المشرکین علی النبي محمد ﷺ (1؍ 548) زاد المعاد (1؍ 299) طبقات ابن سعد (1؍ 9۔ 398 اردو) الرحیق المختوم (ص: 125تا 128)