کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 172
اور بعض شعراء نے تو حد ہی کردی اور یہ تک کہہ دیا ؎ اللہ کا پکڑا چھڑائے محمد محمد کا پکڑا چھڑا کوئی نہیں سکتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں غلو پسندی و مبالغہ آمیزی پر مبنی اشعار کو جمع کرنا شروع کیا جائے تو گستاخیٔ الٰہی کا پتہ دینے والے اشعار کا ایک دیوان بن جائے۔ یہی حال بعض مقررین کا بھی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو بیان کرتے ہوئے آدابِ الٰہی کی تمام حدود ہی کو پھلانگ جاتے ہیں۔نعت گوئی اور بیانِ سیرت کے لیے یہ تحریریں مطلوب نہیں بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصل مقام و مرتبہ اور عظمتِ شان کو بیان کیا جائے جو قرآنِ کریم کی تعلیمات اور صحیح سند سے ثابت احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم پر مشتمل ہو۔ صحیح افکار و نظریات پر مشتمل نعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسا عمل ہے کہ جس کی حقیقی ادائیگی کرنے والے شخص کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند فرمایا، انھیں اپنے منبرِ مقدس پر بٹھا کر نعت سنانے کا حکم فرمایااور ان کے لیے دعائیں کیں حتیٰ کہ حضرت جبریل علیہ السلام کے ذریعے ان کی مدد و حمایت کی بشارت دی۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے سنا: ((اِنَّ رُوْحَ الْقُدُسِ لَا یَزَالُ یُؤَیِّدُکَ مَا نَافَحْتَ عَنِ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ))[1] ’’بیشک جب تک تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے رہوگے اللہ تعالیٰ تمھاری مدد روح القدس [حضرت جبریل علیہ السلام ] کے ذریعے کرتا رہے گا۔‘‘ [1] صحیح مسلم (4؍1936، حدیث: 2490)