کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 131
’’جولوگ آپ کو حجروں کے باہر سے آوازیں دیتے ہیں ان میں سے اکثر بے عقل ہیں۔‘‘ اس آیت سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت و شان اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب و احترام کے تقاضوں کو ملحوظِ خاطر نہ رکھنا ’’ بے عقلی‘‘ ہے۔ [1] ایک وضاحت: یہاں یہ بات پیشِ نظر رکھیں کہ جس طرح احترامِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آوازوں کو پست رکھنا ضروری اور اونچی اونچی آوازیں نکالنا مکروہ ہے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں بھی اپنی آوازوں کو پست رکھنا ضروری ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں کھڑا تھا تو مجھے کسی نے کنکری ماری، کیا دیکھتا ہوں کہ امیر المؤمنین حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ ہیں۔ انھوں نے مجھے حکم فرمایا کہ جایئے اور ان دو آدمیوں کو میرے پاس لے آیئے۔ میں گیا اور انھیں لے آیا۔ انھوں نے اُن سے مخاطب ہوکر پوچھا: ’’تم کون ہو اور کہاں کے ہو؟‘‘ انھوں نے بتایا کہ ہم طائف سے ہیں۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ لَوْ کُنْتُمَا مِنْ أَہْلِ الْبَلَدِ لَأَوْجَعْتُکُمَا، تَرْفَعَانِ أَصْوَاتَکُمَا فِیْ مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ!‘‘ [2] ’’اگر تم مدینہ منورہ کے رہنے والے ہوتے تو میں تمھیں سزا دیتا، تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں کھڑے ہوکر اپنی آوازوں کو بلند کر رہے ہو!‘‘ [1] تفسیر القرطبي (8؍16؍309) تفسیر أحسن البیان أیضاً۔ [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (470)