کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 122
’’جس نے ہر صبح دس مرتبہ اور ہر شام دس مرتبہ مجھ پر درود پڑھا وہ قیامت کے دن میری سفارش کا حق دار ہوگا۔‘‘ فضل الصلوٰۃ علیٰ النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((مَنْ صَلّٰی عَلَيَّ مَرَۃً وَاحِدَۃً کَتَبَ اللّٰہُ لَہٗ عَشْرَ حَسَنَاتٍ)) [1] ’’جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھا اللہ اس کے نامۂ اعمال میں دس نیکیاں لکھ دیتا ہے۔‘‘ فضل الصلوٰۃ علیٰ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی میں حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((مَا مِنْ عَبْدٍ یُصَلِّيْ عَلَيَّ اِلَّا صَلَّتْ عَلَیْہِ الْمَلَآئِکَۃُ مَا صَلّٰی عَلَيَّ، فَلْیُقِلَّ أَوِ لْیُکْثِرْ )) [2] ’’جب کوئی شخص مجھ پر درُود پڑھتا ہے تو جب تک وہ درُود پڑھتا رہتا ہے فرشتے اس کے لیے دعائِ مغفرت کرتے رہتے ہیں، اب چاہے وہ کم پڑھے یا زیادہ پڑھے۔ ‘‘ تارکینِ درود کے لیے و عیدیں : درود شریف سے فضائل و برکات کے حصول والی بات محض اختیاری ہی نہیں کہ پڑھیں تو یہ فوائد و ثمرات ملیں گے نہ پڑھیں تو ہماری مرضی بلکہ یہ معاملہ بڑا ہی گھمبیر ہے۔ یہ صرف حب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حق بھی ہے اور یہ حق ادا نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے،جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں مروی ہے۔ [1] فضل الصلوٰۃ علیٰ النبيﷺ [حدیث: 11] [2] مشکاۃ مع تحقیق الألباني، رقم الحدیث (925)