کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 107
’’ ایمان کی نشانی انصار صحابہ سے محبت اور نفاق کی نشانی انصار صحابہ سے بغض و نفرت ہے۔‘‘ جبکہ بخاری و مسلم کی ایک متفق علیہ حدیث میں ارشادِ نبوی ہے: ((اَلْأَنْصَارُ لَا یُحِبُّہُمْ اِلّا مُؤْمِنٌ وَ لَا یُبْغِضَہُمْ اِلّا الْمُنَافِقُ، فَمَنْ أَحَبَّہُمْ أَحَبَّہٗ اللّٰہُ وَ مَنُ أَبْغَضَہُمْ أَبْغَضَہٗ اللّٰہُ)) [1] ’’انصار سے محبت صرف مومن ہی کرتے ہیں اور ان سے نفرت صرف منافق کرتے ہیں۔ جس نے ان سے محبت کی اس سے اللہ محبت کرتا ہے اور جو ان سے نفرت کرتا ہے اس سے اللہ نفرت کرتا ہے۔‘‘ غرض اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جن لوگوں کو یہ مقام و مرتبہ دیا ہے ہم پر فرض بنتا ہے کہ ہم بھی ان کا مکمل احترام و اکرام کریں،عزت سے سب کا نام لیں اور نام کے ساتھ ہی حسبِ موقع ایک صحابی ہو تو ’’رضی اﷲ عنہ‘‘ صحابیہ ہو تو ’’عنہا‘‘ دو صحابی یا صحابیات ہوں تو ’’عنہما‘‘ مجموعہ صحابہ ہوں تو ’’عنہم‘‘ اور مجموعہ صحابیات ہوں تو ’’عنہنّ‘‘ بھی کہیں۔ ۱۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے اللہ کی رضا و خوشنودی کا پتہ تو خود قرآنِ کریم نے دے رکھا ہے چنانچہ سورۃ التوبۃ میں ارشادِ الٰہی ہے : { وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُھٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ وَ اَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ} [التوبۃ: ۱۰۰] ’’جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) [1] صحیح البخاري رقم الحدیث (3572)