کتاب: حقوق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت کی شرعی سزا - صفحہ 100
۴۔ کنگن اتار پھینکنا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی تعمیل و بجا آوری میں صرف مرد صحابہ رضی اللہ عنہم ہی پیش پیش نہیں تھے بلکہ صحابیات رضی اللہ عنہن بھی کسی سے کم نہ تھیں۔ چنانچہ سنن ابی داوو میں روایت ہے کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس کے ساتھ ہی اس کی بیٹی بھی تھی جس کے ہاتھوں میں سونے کے دو موٹے کنگن تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ((أَتُعْطِیْنَ زَکٰوۃَ ہٰذَا ؟)) ’’کیا تم ان کنگنوں کی زکوٰۃ دیتی ہو؟‘‘ اس نے جواب دیا: نہیں۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أیَسُرُّکِ أنْ یُّسَوِّرَکِ اللّٰہُ بِہِمَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ سَوَارَیْنِ مِنْ نَّارٍ؟)) ’’کیا تمھیں پسند ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمھیں ان کے بدلے جہنم کی آگ کے دو کنگن پہنائے؟‘‘ راویٔ حدیث حضرت عبد اللہ بن عَمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اس عورت نے وہ دونوں کنگن بچی کے ہاتھ سے نکالے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے کہا: ((ہُمَا لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَ لِرَسُوْلِہٖ))[1] ’’یہ میری طرف سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صدقہ ہیں۔‘‘ ۵۔ نقاب و حجاب کی پابندی: آج کل مسلمان مرد داڑھی منڈوانے اور لباس و پوشاک حتیٰ کہ طور اطوار میں تقلیدِ فرنگ کے اتنے دلدادہ ہوچکے ہیں کہ مسلم اور کافر میں فرق کرنا مشکل [1] سنن أبي داود للألباني (1؍291)