کتاب: حمید الدین فراہی رحمہ اللہ اور جمہور کےاصول تفسیر تحقیقی و تقابلی مطالعہ - صفحہ 456
عن النّبي صلی اللّٰه علیہ وسلم قال:((مَنْ صَلَّىٰ صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ ثَلَاثًا غَيْرُ تَمَامٍ))[1] کہ جو شخص نماز پڑھے اور اس میں سورۂ اُم القرآن(یعنی فاتحہ)نہ پڑھے تو اس کی نماز ناقص ہے۔ 2۔ دوسری حدیث بھی سيدنا ابوہریرہ سے ہی ہے،فرماتے ہیں: سمعت رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم يقول:((قَالَ اللّٰهُ تَعَالَىٰ:قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ،فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ:﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،قَالَ اللّٰهُ تَعَالَىٰ:حَمِدَنِي عَبْدِي،وَإِذَا قَالَ:﴿الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ،قَالَ اللّٰهُ تَعَالَىٰ:أَثْنَىٰ عَلَيَّ عَبْدِي،وَإِذَا قَالَ:﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ،قَالَ:مَجَّدَنِي عَبْدِي،وَقَالَ مَرَّةً:فَوَّضَ إِلَيَّ عَبْدِي،فَإِذَا قَالَ:﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ،قَالَ:هٰذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ،فَإِذَا قَالَ:﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ()صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ،قَالَ:هٰذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ))[2] کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ عزو جل فرماتے ہیں کہ میں نےنماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان نصف تقسیم کرلیا ہے اور میرے بندے کیلئے ہے جو وہ مانگے۔جب بندہ﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾کہتا ہے تو اللہ عزو جل فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری حمد بیان کی۔پھر جب بندہ﴿الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾کہتا ہے تو اللہ عزو جل فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری ثناء کی۔جب بندہ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾کہتا ہے تو اللہ عزو جل فرماتے ہیں کہ میرے بندےنےمیری بزرگی بیان کی۔ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے اپنے آپ کو میرے حوالے کردیا۔پھر جب وہ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾کہتا ہے تو اللہ فرماتے ہیں کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کیلئے ہے جوکچھ اس نے مانگا۔پھر جب کہتا ہے﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ()صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾تو اللہ فرماتے ہیں کہ یہ میرے بندے کیلئے ہے اور اس کیلئے ہے جو کچھ اس نےمانگا۔ 6۔ ایک جگہ فرماتے ہیں: ''اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے ہمیں عذاب سے نجات دینے اور گناہوں سے پاک کرنے کا وعدہ کیا ہے،بلکہ توبہ کرنے والے کی قدر و منزلت بڑھ جانے کی صراحت کی ہے،جیسا کہ سورۂ آل عمران میں ہے۔انجیل میں اس کیلئے ’گم شدہ بھیڑ‘ کی تمثیل بیان کی گئی ہے۔’مسافر اور اس کی سواری‘ والی حدیث میں بھی سیدنا عیسیٰ ہی کی جیسی تمثیل ہے۔‘‘ [3] یہاں مولانا نے جس حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے اسے سيدنا عبداللہ بن مسعود‏ نے روایت کیا ہے،فرماتے ہیں:
[1] صحيح مسلم:کتاب الصّلاة، باب وجوت قراءة الفاتحة في كلّ ركعة ... ، 395 [2] صحيح مسلم:کتاب الصّلاة، باب وجوت قراءة الفاتحة في كلّ ركعة ... ، 395 (صحیح مسلم میں یہ دونوں روایتیں ایک ہی حدیث میں بیان ہوئی ہیں، جبکہ دیگر کتب مثلاً مؤطا امام مالک، مسند احمد، ابو داؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں دونوں روایتیں الگ الگ ذکر ہوئی ہیں۔) [3] في ملكوت اللّٰه:ص13