کتاب: حمید الدین فراہی رحمہ اللہ اور جمہور کےاصول تفسیر تحقیقی و تقابلی مطالعہ - صفحہ 421
الرّؤيا ربّما تكون ذات تأويل. وأقرب تأويل الذّبح للإنسان أن يقرّب به،فإن تقريب الإنسان للّٰه أن يجعل نذرًا للرّب وخادمًا لبيته،فإن خادم المعبد يجعل عوضا عن القربان،ويجري عليه شعائره:من وضع اليد عليه،وترديده أمام المعبد،كما جاء في سفر العدد(8:10۔16)" [1] کہ شريعت خداوندی کے عام مزاج سے یہ بات بہت بعید ہے کہ اللہ عزو جل اپنے کسی بندہ کو صریح الفاظ میں اس بات کا حکم دے دے کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر ڈالے۔البتہ خواب میں یہ بات دکھائی جا سکتی ہے۔کیونکہ خواب تعبیر کی چیز ہوتی ہے۔اگر خواب میں کسی کو ذبح کرنا دکھایا جائے تو اس کی سب سے قریب ترین تاویل یہ ہے کہ اس کو خدا کی نذر اور اس کے گھر کا خادم بنا دیا جائے۔یہود کے یہاں معبد کے جو رسوم تھے ان کی رو سے معبد کے خدام بڑی حد تک قربانی کے جانوروں کے مشابہ خیال کیے جاتے تھے۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ان پر قربانی کے بعد مراسم ادا بھی کیے جاتے تھے،جیسا کہ گنتی 8:10۔16 میں ہے۔ اور مولانا کے نزدیک یہی قربانی کی حقیقت ہے۔[2]اپنے اس مؤقف کی تائید میں تورات کے علاوہ انہوں نے قرآنی آیات سے بھی استدلال کیاہے۔ عبید اللہ فراہی اس بارے میں مولانا فراہی رحمہ اللہ کے موقف کی حمایت میں آياتِ کریمہ [3]سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’قرآن مجید میں لفظِ ’قربان‘ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے جو اہل لغت نے بیان کیے ہیں،یعنی اللہ عزو جل کا قرب حاصل کرنے کیلئے اس کے حضور یا خدمت میں جو چیز بطور نذر پیش کی جائے اسے قربان کہتے ہیں۔مثلاً:﴿الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّى يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ[4] اور﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ[5] يا جسے تقرّبِ الٰہی کا ذریعہ بنایا جائے،مثلاً﴿فَلَوْلَا نَصَرَهُمُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللّٰهِ قُرْبَانًا آلِهَةً[6] جہاں تک حضرت اسمٰعیل کو خدمتِ کعبہ کیلئے نذر کرنے کا تعلّق ہے تو اس پر یہ آیتیں شاہد ہیں:﴿رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ[7]﴿وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ[8]
[1] الرّأي الصّحيح في من هو الذّبيح:ص32 [2] أيضًا:ص56 ؛ مفردات القرآن:ص148 [3] انجمن طلبۂ قدیم مدرسۃ اصلاح کی دعوت پر 8 تا 10 اکتوبر 1991ء میں فراہی سیمینار منعقد کیا گیا، اس میں پڑھے جانے والے مقالات کو جناب عبید اللہ فراہی نے (مولانا حمید الدین فراہی رحمہ اللہ ... حیات وافکار) کے نام سے مرتّب کیا۔ [4] سورة آل عمران، 3:183 [5] سورة المائدة، 5:27 [6] سورة الأحقاف، 46:28 [7] سورة إبراهيم، 14:37 [8] سورة البقرة، 2:125