کتاب: حمید الدین فراہی رحمہ اللہ اور جمہور کےاصول تفسیر تحقیقی و تقابلی مطالعہ - صفحہ 389
﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ[1] کہ طلاق یافتہ عورتوں تین حیض تک اپنے آپ کو روکے رکھیں۔ اس آیتِ کریمہ میں طلاق یافتہ عورتوں کی عدت تین حیض بیان کی گئی ہے اور یہ آیت مبارکہ عام ہے،یعنی تمام طلاق یافتہ عورتوں کو شامل ہے۔اس آیتِ مبارکہ میں﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ﴾کے شروع میں ’ال‘ عموم کا فائدہ دے رہا ہے،لیکن قرآن کریم نے اس آیت کی ایک اور مقام پر تخصیص فرمادی ہے۔ ارشاد باری تعالىٰ ہے: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا[2] کہ اے اہل ایمان!جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو،پھر تم انہیں چھونے سے پہلے طلاق دو تو ان عورتوں پر کوئی عدت لازم نہیں ہے کہ جسے تم شمار کرو۔ اس آیتِ مبارکہ میں کسی عورت سے خلوت صحیحہ سے پہلے ہی طلاق دینے کی صورت میں اس کی عدت ختم کر دی گئی ہے۔اس آیت کریمہ نے پہلی آیت مبارکہ کی تخصیص کر دی ہے۔ سنت کے ذریعے قرآن کریم کی تخصیص کی مثال اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ[3] كہ تم پر مُردار حرام کیا گیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں﴿الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ﴾کے الفاظ عام ہیں اور ہر قسم کے مُردار کو شامل ہیں۔سنت نے اس آیت کی تخصیص کی ہے۔نبی کریم کا فرمان ہے: ((هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُه))[4] کہ سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔ اس حدیثِ مبارکہ میں سمندر کے مردار کو حلال کہا گیا ہے،یعنی اگر سمندر میں مچھلی از خود مر جائے اور پانی کی سطح پر آجائے تو اس کو کھانا جائز ہے۔
[1] سورة البقرة، 2:228 [2] سورة الأحزاب، 33:49 [3] سورة المائدة، 5:3 [4] جامع الترمذي:كتاب الطهارة عن رسول اللّٰه، باب ما جاء في ماء البحر أنه طهور، 69، قال أبو عيسى:هذا حديث حسن صحيح، وقال الألباني:صحيح، انظر:صحيح الترمذي:69