کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 98
ہندؤوں اور سکھوں میں بہت کم لوگ نابینا ہیں۔مسلمانوں میں نابیناؤں کی کثرت کی وجہ مرچ مسالے کا زیادہ استعمال ہے۔
سادہ لباس،سفید تہبند،قمیص اور سفید پگڑی پہنتے۔سرخ وسفید چہرہ،قد آور،گٹھا ہوا مضبوط جسم۔نوعمری میں لوہا بھی کوٹتے رہے تھے،اس لیے مضبوط اعصاب کے مالک تھے۔
مسلکِ اہلِ حدیث اور اس کے امتیازی مسائل آمین ،رفع الیدین،طلاقِ ثلاثہ اور مسنون تراویح گیارہ رکعت وغیرہ پر کوئی مدا ہنت نہیں کرتے تھے۔ان کے اثبات میں بڑے عقلی ونقلی دلائل بیان فرماتے۔بہت سے دیوبندی احباب نے اپنے علما سے ان مسائل کا جواب نہ پا کر مسلک اہلِ حدیث اختیار کیا۔جلسوں اور کانفرنسوں میں ان کی تقریر اکثر مسلک اہلِ حدیث کی حقانیت کے موضوع پر ہوتی۔
مولانا مودودی کے نظریات کے شدید مخالف تھے۔مولانا عبدالواحد مرحوم جو جامع اہلِ حدیث کے بانی اور امام تھے،مائل بہ جماعت اسلامی تھے۔چنانچہ ان سے مولانا کی اکثر نوک جھونک رہتی۔
مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف اس زمانے میں جماعت اسلامی کے ضلعی امیر تھے اور جماعت کا دفتر مسجد کے نیچے بازار میں تھا۔حکیم صاحب مسجد میں نماز کے لیے آتے تو مولانا احمد الدین ان سے بھی مولانا مودودی کی تفسیری تشریحات اور اجتہادات کے متعلق گفتگو کرتے،جس کا شافی جواب حکیم صاحب سے نہ بن پڑتا۔ایک مرتبہ مولانا مودودی کے فیصل آباد کے دورے کے دوران میں حکیم صاحب نے مودودی صاحب سے مولانا احمد الدین کی گفتگو اور تبادلۂ خیالات کا پروگرام بنایا،لیکن مولانا مودودی نے انکار کردیا۔