کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 97
شہر میں مسلک اہلِ حدیث کو بہت فروغ ہوا۔اس سلسلے میں میرے والد کا کردار بہت نمایاں تھا جو ان نوجوانوں کو کسی نہ کسی طرح مولانا کے پاس لے جاتے،ان سے یہ نوجوان مسائل دریافت کرتے۔پھر جب وہ اپنے علما کے پاس جا کر ان کا جواب طلب کرتے تو سمجھ جاتے کہ حق کیاہے۔
1955ء میں جامع اہلِ حدیث امین پور بازار میں مولانا محمد صدیق رحمہ اللہ تشریف لائے۔ان کا طنطنہ اور جوش و جذبہ سونے پر سہاگہ تھا۔ان کی تاندلیاں والا میں اراضی،نمبرداری اور پھر گول بازار کریانہ میں ان کی دکان بھی تھی۔یہ قدرت کی طرف سے وہ اسباب تھے جن کی وجہ سے فیصل آباد شہر میں اہلِ حدیث کی ترقی ہوئی۔جامعہ سلفیہ،مدرسہ دارالقرآن والحدیث،جامعہ تعلیماتِ اسلامیہ اور چھوٹے بڑے کئی تعلیمی مراکز ومدارس اور شہر بھر کی نئی کالونیوں اور بستیوں میں مساجد اہلِ حدیث کی تعمیرات ہوئیں۔راقم السطور مولانا محمد صدیق کی رحلت کے بعد عرصہ بیس سال سے جامع اہلِ حدیث امین پور بازار میں خدمتِ خطابت انجام دے رہا ہے۔لیکن اس جماعتی ترقی کی اساس وبنیاد میں مولانا احمد دین گکھڑوی کی تگ و تاز اور مسلکِ اہلِ حدیث کی تبلیغ و دعوت کے سلسلے میں ان کی بھرپور شب وروز کی کوشش بھی شامل ہے۔اللّٰھم اغفرلہ وارحمہ۔
مولانا احمد الدین شب زندہ دار اور تہجد گزار تھے،ہر وقت ان کی زبان ذکر و اذکار میں مصروف رہتی۔ان کی خوراک بہت کم تھی۔ایک ڈیڑھ چپاتی سے زیادہ نہ کھاتے۔بادی اشیا،آلو اور گوبھی سے پرہیز کرتے۔اگر کہیں کھانے میں یہ چیزیں ہوتیں توپاؤ ڈیڑھ پاؤ دودھ منگوا لیتے اور اس سے روٹی کھالیتے۔سالن میں زیادہ مرچیں پسند نہ کرتے۔مرچ مسالے کے شدید مخالف تھے۔کہا کرتے تھے کہ