کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 96
مسجد مبارک منٹگمری بازار میں خطبہ اور صبح کا درسِ قرآن ارشاد فرماتے رہے۔فرمایا کرتے تھے کہ میں نے امین پور بازار کی مسجد میں توحید بیان کی،یہاں رسالت بیان ہوگی۔چنانچہ وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات اورسیرت وسوانح ان کاموضوع رہا۔شاید اسی دوران میں کتاب ’’سیرتِ سید العالمین‘‘ بھی تصنیف فرمائی۔
منٹگمری بازار کے بعد گلبرگ( سی) کی مسجد الفردوس میں سال ڈیڑھ سال خطبہ دیتے رہے۔پھر کئی سال جامع مسجد اہلِ حدیث مومن آباد میں خطیب رہے۔یہاں مختلف عوارض کثرتِ بول،بخار اور اس کے ساتھ نقاہت اور کھانسی وغیرہ میں مبتلا ہوگئے۔بالآخر اپنے آبائی شہر گکھڑ تشریف لے گئے اور وہاں انتقال کر گئے۔إنا ﷲ وإنا إلیہ راجعون۔
مولانا احمد الدین نے قیامِ فیصل آباد کے دوران میں مولوی سردار احمد کو کئی بار مناظرے کا چیلنج دیا۔مولانا سردار احمد کی مسجد( جھنگ بازار) میں مولوی محمد عمر اچھروی کی آمدورفت رہتی تھی۔مگر انھیں کبھی مولانا احمد الدین کا سامنا کرنے کی جراَت نہیں ہوئی،البتہ تقسیمِ ملک سے قبل مولانا محمد عمر اچھروی سے ان کے کئی مناظرے ہوئے۔اسی طرح دوسرے مسالک کے اہلِ علم اور غیر مسلموں سے بھی انھوں نے کئی مناظرے کیے۔
مولانا احمد الدین صاحب کے قیامِ فیصل آباد کے دوران میں مختلف مساجد میں ان کی خطابت اور وعظ کے سلسلے جاری رہے،جن سے متاثر ہو کر بے شمار افراد،بلکہ بہت سے خاندانوں نے مسلک اہلِ حدیث قبول کیا۔ان میں صوفی احمد دین اور حاجی بشیر احمد اور ان کے بریلویت میں متشدد بھائی اور خاندان کے دور و نزدیک کے شیخ برادری کے لوگ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں،جن کی اصلاحِ عقائد کے نتیجے میں