کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 95
چونکہ اردو کے بجائے پنجابی میں تقریر کرنے کا عادی ہوں،اس لیے اردو میں تقریر کرتے ہوئے کسی وقت پنجابی الفاظ زبان سے نکل جاتے،جب کہ مرزائی مناظر فر فر اردو بول رہا تھا۔اپنی زبان دانی کے گھمنڈ میں اس نے ہمارے صدر مولانا عبدالمجید سوہدروی سے کہا کہ آپ کو پنجاب سے کوئی ایسا مناظر نہیں ملا جو اردو بول سکے؟ آپ کا مناظر اردو بولتے بولتے بیچ میں پنجابی لے آتا ہے۔بات تو اس کی درست تھی،مگر مولانا گکھڑوی نے جواب میں فرمایا: ’’بھئی! پنجاب کا خطہ ہی ایسا ہے،یہاں کے تو نبی کو اردو نہیں آتی۔آپ کے مرزا غلام احمد نے فلاں کتاب کے فلاں صفحے پر ڈول کو ’’بوکا‘‘ لکھا ہے۔‘‘ پھر مرزائی مقرر ایسا لاجواب ہوا کہ اس بات کو اس نے دوبارہ نہ دہرایا۔ ایک شخص کو طلاقِ ثلاثہ کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے کہا کہ اس کی مثال ایسی ہے کہ فجر کے وقت کوئی آدمی پانچوں نمازیں فجر،ظہر،عصر،مغرب ،عشا اکٹھی ادا کرے۔یہ نماز فجر کی ہوگی،باقی نمازیں اپنے اپنے وقت پر ہوں گی۔اسی طرح تین طلاقیں ایک بار دینے سے ایک ہی واقع ہوگی۔باقی اپنے وقت پر ایک ایک ماہ کے بعد واقع ہوں گی۔ مولانا کو اہلِ سنت کے مکاتبِ فکر احناف (دیوبندی وبریلوی) اور شیعہ کے عقائد و اعمال اور ان کی فقہی کتب پر عبور حاصل تھا۔تقریروں میں ان کے حوالے دیتے تھے۔غیر مسلموں،عیسائیوں،مرزائیوں اور ہندوؤں کی کتب کے صفحات کے صفحات ازبر تھے۔ان کے ساتھ مناظروں کے واقعات بیان کیا کرتے تھے۔میری عمر چونکہ اس زمانے میں چھوٹی تھی،اس لیے اب بہت سی باتیں حافظے میں نہیں رہیں۔ جامع مسجد اہلِ حدیث امین پور بازار کی خطابت کے بعد قریباً دو سال تک