کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 94
گئے بھی تشریف لاتے تومیرے والد ین کو ان کے اس وقت آنے پر بھی کوئی ملال نہ ہوتا،بلکہ خوشی کا اظہار کرتے۔
مولانا احمدالدین اپنے اساتذہ خصوصاً مولانا ثناء اللہ امرتسری (جو مناظرے میں ان کے استاد تھے) اور مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کا تذکرہ بڑے خوب صورت انداز میں کرتے۔مولانا گکھڑوی کی دعوت پر مولانا سیالکوٹی 1952ء میں فیصل آباد تشریف لائے۔انھوں نے جامع مسجد اہلِ حدیث امین پور بازار میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ان کا دو روزہ قیام صدر انجمن مولانا حکیم نور دین کی کوٹھی (کوتوالی روڈ پر جہاں حکیم صاحب کے صاحب زادے میر عبدالقیوم کی رہایش تھی) پر رہا۔
ایک دفعہ مولانا گکھڑوی نے اپنے دوست اور تبلیغی ہم سفر مولانا نور حسین گرجاکھی کو بھی فیصل آباد آنے کی دعوت دی،چنانچہ انھوں نے بھی خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔رات کو سانگلہ ہل کے قریب ہنجلی گاؤں میں مولوی محمد عمر اچھروی اور مولوی عنایت اللہ سانگلوی سے مناظرہ طے تھا۔یہ دونوں بریلوی عالم صبح سے شام تک دن بھر اہلِ حدیث کو مناظرے کے لیے للکارتے رہے۔مگرجب شام کو مولانا گکھڑوی،مولانا نور حسین،حافظ محمد اسماعیل روپڑی اور حافظ عبدالقادر روپڑی وہاں پہنچے تودونوں فوراً گاؤں چھوڑ گئے اور رات کو ان علما نے تقریریں کیں۔میں بھی والد صاحب کے ساتھ وہاں گیا تھا۔
مولانا گکھڑوی نے ایک مرتبہ مرزائی مناظر سے شملہ میں مناظرہ کیا تھا۔اس مناظرے کا ذکرکرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اس مناظرے میں ہمارے صدر مولانا عبدالمجید سوہدروی تھے اور دوسری جانب مرزائی مناظر سلیم تھا۔طے پایا کہ وہاں کے ماحول کے مطابق اردو میں گفتگو اور تقریریں ہوں گی۔مولانا فرماتے ہیں: ’’میں